تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 414
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 مارچ 1983ء ات تحریک جدید - ایک الہی تحریک ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے مرے زور دعا دیکھو تو فلسفیو زور دعا اس کلام کی سچائی کا جماعت بار ہا مشاہدہ کر چکی ہے۔اس لئے ہر احمدی بہر حال اس بات سے اپنی تبلیغ کا آغاز کر دے کہ فوری طور پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ دعا کرے اور روزانہ پانچوں وقت اس کو اپنے اوپر لازم کر لے۔وہ خدا سے یہ التجا کرے کہ اے خدا! ہمیں یہ تو فیق عطا فرما کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں اور تیری نظر میں داعی الی اللہ بننے کا جو حق ہے، اس کو ادا کرنے لگ جائیں۔اور اے خدا! دنیا کو بھی یہ توفیق عطا فرما کہ وہ ہماری باتوں کو سنے ، لوگوں کے دل نرم ہوں، ان کی عقلیں صاف اور سیدھی ہو جائیں اور وہ تیرے پیغام کو قبول کرنے لگیں۔اس کے ساتھ یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آنے والوں کو حوصلہ دے اور ان کو طاقت بخشے کہ وہ مخالفتیں برداشت کر کے بھی حق کو قبول کریں، ان کو برکتیں عطا کرے اور ان سے پیار کا سلوک فرمائے تا کہ وہ دوسروں کے لئے نیک نمونہ بنیں۔پھر روزانہ بلاناغہ یہ دعائیں بھی کریں کہ اے خدا! ہر آنے والا داعی الی اللہ بنے، مبلغ احمدی بنے اور پھلجھڑی کا سا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے کہ ایک شمع روشن ہو تو وہ آگے دوسری شمع روشن کرتی چلی جائے۔اگر ساری جماعت یہ دعا ئیں شروع کر دے تو دیکھتے دیکھتے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا ہونے لگیں گے۔پس دعا پر بہت زور دیں، دعا پر بہت زور دیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ اول بھی دعا ہے، آخر بھی دعا ہے۔اگر داعی الی اللہ بنا ہے تو اللہ سے دعائیں کرنی ہوں گی۔اس سے مدد مانگے بغیر کس طرح داعی الی اللہ بن جائیں گے؟ جس کی طرف بلانا چاہتے ہیں، اس سے محبت اور پیار کئے بغیر اس کی طرف کیسے بلائیں گے؟ لیکن ان امور سے متعلق مزید تفصیلات انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم بہت دعائیں کریں اور خلوص دل کے ساتھ کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو قبول فرمائے ، ہم ان کے نیک اثرات دیکھیں ، ہماری طبیعت میں بشاشت پیدا ہو اور مایوسی ختم ہو جائے ، دلوں میں ایک یقین اور عظمت کردار کا احساس پیدا ہو جائے۔ہم جاننے لگیں کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں۔ہم خدا والے ہیں اور خدا کی طرف یقین کے ساتھ بلانے والے ہیں۔یہ وہ احساسات ہیں، جو دعا کے نتیجہ میں بیدار ہوتے ہیں اور پھر تبلیغ کامیاب ہوا کرتی ہے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 31 مئی 1983 ء ) 414