تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 408

ارشادات فرمودہ 23 فروری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم امام وقت کو قبول کرنے کی سعادت پائی، ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن اتنی توفیق نہیں ملتی کہ اپنے ہمسایوں کو بلا کر کہیں کہ آؤ تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ۔یہی بات حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ یہاں فرمائی تھی۔آپ نے فرمایا تھا: دیکھو! میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تم نے اس زمین کا حق ادا نہ کیا، جس کا تم نمک کھاتے ہو تو تمہیں شدید نقصان پہنچے گا۔پس مقامی احباب کا یہ پہلا حق ہے کہ ان کی خدمت کی جائے ، ان سے بھائی چارہ پیدا کیا جائے اور محبت و پیار کی فضا پیدا کی جائے“۔ایک دوست نے عرض کیا کہ نظارت اصلاح و ارشاد پہلے سال میں ایک، دو دفعہ مربیان کو بھیج کر ہماری اوور ہالنگ کرا دیتی تھی ، اب ایسا نہیں ہوتا۔اس لئے کچھ ستی پیدا ہو گئی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا:۔مبلغین اور مریبان کے ذریعہ میں نے جماعت کو اور بال نہیں کرانا۔یہ سائیکل کی دکان نہیں، یہ الہی سلسلہ ہے۔اس میں آپ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ساتھ چل سکیں گے۔مربی پر انحصار کرتے ہوئے تربیت کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیتے ہیں اور خود اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں: ہم اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے ، اس لئے مریبان کے سپرد کر دیتے ہیں کہ تم یہ دین سنبھالو، ہم دنیا سنبھال لیتے ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دنیا کمائیں اور دینی مسائل کو سلجھانے یا اصلاح و ارشاد کی مہم چلانے کی بات ہو تو یہ مربیان جانیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے لوگ ہیں، اچھے تاجر ہیں، اچھے وکیل یا سائنسدان ہیں، ہمیں تربیت اولاد کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام مربیان کا ہے، وہ کریں۔ایسے لوگوں کی نسلیں دین سے خالی ہو جاتی ہیں۔جن کے اوپر یہ بوجھ ڈالے جاتے ہیں ، وہ بھی پھر آہستہ آہستہ خراب ہونے لگ جاتے ہیں۔دوستوں کو دین کا علم نہیں رہتا، وہ مربیان سے پوچھتے ہیں، یہ من مانے معنی کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح باقی امور میں بگاڑ شروع ہو جاتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی بگاڑ شروع ہو جائیں گے۔اس لئے میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ دینی لحاظ سے بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ہر گھر کا فرض ہے کہ وہ دین سیکھے اور اپنے بچوں کو سکھائے اور اولاد کی صحیح رنگ میں تربیت کرئے۔مطبوع روزنامه الفضل 16 فروری 1984ء) 408