تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 407

تحریک جدید- ایک الہی تحریک ارشادات فرموده 23 فروری 1983ء جماعت اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے حیرت انگیز قربانیاں کر رہی ہے ارشادات فرمودہ 23 فروری 1983ء بر موقع مجلس عرفان جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد کیا ہے؟ وہ کون سے مقاصد ہیں، جن کے پیش نظر یہ جماعت قائم کی گئی ہے؟ حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔جماعت احمدیہ کا وہی مقصد ہے، جو امام مہدی کے آنے کا ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں جب امت دینی لحاظ سے بھی خراب ہو جائے گی اور فلاں فلاں علامتیں ظاہر ہوں گی تو اس وقت مسیح ابن مریم آکر ان کی اصلاح کریں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی وہ زمانہ آچکا ہے؟“ حضور نے احادیث نبویہ کی روشنی میں ثابت کیا کہ یہ وہی زمانہ ہے، جس میں مسیح موعود اور امام مہدی نے آنا تھا اور امت کے مختلف اختلافات کو مٹا کر مذہبی اور نظریاتی لحاظ سے وحدت پیدا کرنی تھی۔چنانچہ جماعت احمدیہ کا قیام بھی اس مقصد کے پیش نظر عمل میں آیا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنے ماننے والوں کے نظریات کی درستی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کو جانی اور مالی قربانی کے رستے پر ڈال کر ان کی ترقیات کے سامان پیدا کئے۔قربانی سے قو میں بنتی اور ترقی کرتی ہیں۔چنانچہ جماعت احمد یہ نظریاتی اور عملی دونوں لحاظ سے اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ وہ سنت الہیہ پر قائم ہے اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے حیرت انگیز قربانیوں کا مظاہرہ کر رہی ہے۔یہ نوجوان کہنے لگا، میری عمر تو 25 سال ہے، میں اپنے والد صاحب سے سنتا آیا ہوں کہ ناصر آباد خاصے عرصہ سے آباد ہے۔لیکن ہمیں کسی نے بھی اس رنگ میں جماعت احمدیہ کے متعلق نہیں بتایا، جس رنگ میں آپ نے بتایا ہے۔) اس پر حضرت صاحب نے فرمایا:۔آپ کا شکوہ جائز اور درست ہے۔دراصل جماعت کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ یوں تو وہ ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے لیکن اپنے گھروں کو اور اپنے ہمسایوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔یہ ان کی بہت بڑی غفلت ہے۔ان کو احمدیت کی شکل میں بہت بڑی نعمت ملی ہے۔انہوں نے سچائی دیکھی، 407