تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 387
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد شم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء مصدقہ اطلاع یہ ملی ہے کہ وہاں اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے جتنے مسلمان ہیں، ان میں ایک بھاری اکثریت جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب Contact Point وسیع ہو گیا ہو تو خدمت کی ضرورت اور بھی زیادہ پیش آیا کرتی ہے۔لیکن یہ ایک امر واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جتنا احمدی مبلغ تھا اور دعوت الی اللہ کیا کرتا تھا، آج اس سے کم ہے۔اس وقت ہر احمدی مبلغ تھا، ہر شخص دعوت الی اللہ کر رہا تھا۔ایک زمیندار کھیتوں میں ہل چلاتا تھا تو وہ بھی تبلیغ کر رہا ہوتا تھا۔ایک تاجر جب لفافوں میں سودا ڈال کر گاہکوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوتا تھا تو اس وقت بھی وہ تبلیغ کر رہا ہوتا تھا۔ایک حکیم جب دوائیوں کی پڑیاں بنا کر کسی کو دیتا تھا یا ڈاک میں پارسل بھیجتا تھا تو وہ ساتھ تبلیغ کر رہا ہوتا تھا۔کوئی احمدی کسی بھی حیثیت کا ہو، خواہ وہ وکیل ہو یا ڈاکٹر ہو، خواہ وہ تاجر ہو یا کوئی اور پیشہ ور ہو، خواہ نجار ہو یا لوہار ہو، ہر حیثیت میں وہ پہلے مبلغ تھا اور اس کی دوسری حیثیت بعد میں تھی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے لیکچر لدھیانہ میں یہ بات واضح فرمائی کہ جہاں تک بیعتوں کے اعداد و شار کا تعلق ہے، دو ہزار، چار ہزار، چھ ہزار تک بیعتیں موصول ہوتی ہیں۔اگر مبلغ نہیں تھے تو یہ بیعتیں کہاں سے آ رہی تھیں ؟ اس زمانہ میں ہر ماہ چھ چھ ہزار بیعتیں عام روٹین (Routine) یعنی معمول کے مطابق ہوا کرتی تھیں۔جس کا مطلب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بہتر ہزار بیعتیں سالانہ ہوا کرتی تھیں۔علاوہ ازیں بعض ایسے اوقات بھی آتے تھے، جب غیر معمولی شان کے ساتھ کوئی نشان ظاہر ہوتا تھا تو اچانک بیعتوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہو جایا کرتا تھا۔بعض اوقات ڈا کیا پھیرے مارتے مارتے تھک جاتا تھا۔بیعتوں کا ایک تھیلا اٹھا کر لایا ، پھر دوسرا تھیلا لے جانے چلا جاتا تھا، پھر وہ تیسر الینے چلا جایا کرتا تھا۔یہ برکت اس وجہ سے تھی کہ نفوس کی قربانی میں بھی برکت تھی۔خدا تعالیٰ کی برکتیں ہماری قربانیوں کی برکتوں کے ساتھ ایک نسبت رکھتی ہیں۔یہ درست ہے کہ ہماری قربانیوں سے سینکڑوں گنازیادہ اللہ کے فضل ہوتے ہیں مگر وہ نسبت پھر بھی قائم ہے۔اگر ایک اور سو کی نسبت آپ کہیں تو جب دس قربانیاں نازل کریں گے تو ہزار فضل نازل ہوں گے۔یہ تو نہیں کہ ایک قربانی کے بعد سو اور دس کے بعد بھی سوہی رہیں۔اس لئے فضلوں کو بڑھانے کی بھی تو کچھ ادا ئیں ہوا کرتی ہیں، وہ ادا ئیں اختیار کرنی پڑیں گی۔اس وقت تمام دنیا میں جو عیسائی مبلغ کام کر رہے ہیں، ان کی تعداد دو لاکھ پچھتر ہزار کے قریب ہے۔اور یہ وہ عیسائی مبلغ ہیں، جو عام پادری نہیں، جو چہ چوں میں عبادت کی خاطر مقرر ہوتے ہیں۔بلکہ یہ 387