تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 386
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اپنے وقت کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو کچھ بھی ہے، وہ خدا کا ہے۔ہماری زندگی کا ہرلمحہ دین کے لئے قربان ہے۔اب جس طرح چاہو ، کام لو۔جس طرح چاہو، خدمت لو۔ہمارا اپنا کچھ نہیں رہا، سب کچھ خدا کے لئے وقف ہے۔ان میں سے اکثر اپنے اس دعوئی پر پورے اترتے ہیں اور اپنے عمل صالح کے ساتھ اپنے اس دعوئی کی تصدیق کر دیتے ہیں۔اور کچھ وہ لوگ ہیں، جو کچھ نہ کچھ وقت دے سکتے ہیں۔دنیا کے دھندوں میں لازماً قوم نے مبتلا ہونا ہے۔اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی دنیا کمانا ضروری ہے۔لیکن مقصودان کا بھی خدمت دین ہوتی ہے۔چنانچہ جو اموال بڑی محنت کے ساتھ کماتے ہیں، وہ خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ بھی اپنے دعوی کو سچا کر کے دکھاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نفوس بھی میرے حضور پیش کرنے ضروری ہیں۔بلکہ نفوس کا پہلے ذکر فرماتا ہے۔اس لئے ہر وہ احمدی، جو مالی قربانی تو کر رہا ہے لیکن وقت کی قربانی پیش نہیں کر رہا، وہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ایک لنگڑ ا مسلمان ہے۔اس کی دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ نہیں ہے۔اور لنگڑا ہونے کے نتیجہ میں انسان اپنی اجتماعی قوت کے سود میں حصہ کے قابل بھی نہیں رہا کرتا۔یعنی دو ٹانگوں میں سے صرف ایک ٹانگ کے کٹنے کے نتیجہ میں انسان کی قوت آدمی نہیں ہو جاتی بلکہ بعض اوقات سوواں حصہ بھی نہیں رہتی۔اس لئے مسلمان دعویدار آدھا مسلمان رہ جائے ، یہ تو ایک بہت بڑا نقص ہے۔پس اگر پہلے ضرورت تھی کہ نفوس کی قربانی میں جماعت بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھے تو آج اس سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہمارے جتنے مبلغ میدان میں کام کر رہے تھے، آج اس کا سوواں حصہ بھی نہیں کر رہے۔جبکہ ضرورتیں پھیل چکی ہیں اور ہمارے Contact Points بہت بڑھ گئے ہیں۔اس زمانہ میں ہندوستان ایک ایسا ملک تھا ، جہاں جماعت احمدیہ کا رابطہ اور واسطہ زیادہ تر اسلام کے دشمنوں کے ساتھ تھا۔لیکن اب تو دنیا میں شاید گنتی کے چند ملک ایسے ہوں گے، جہاں جماعت قائم نہ ہو۔ورنہ کوئی ایسی جگہ آپ کو نہیں ملے گی، جہاں جماعت کا رابطہ کسی نہ کسی رنگ میں نہ رہا ہو یا اس وقت موجود نہ ہو۔مثلاً روس ایک ملک ہے۔باوجود اس کے کہ وہاں تبلیغ کی اجازت نہیں، وہاں کے ایک رسالہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جماعت احمد یہ روس کے علاقوں میں بھی موجود ہے۔اگر چہ ان کا اپنے مرکز سے رابطہ نہیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں ہر جگہ احمدی پائے جاتے ہیں تو اسی کی بنا پر کہتا ہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کا وجود چین میں بھی ہے، روس میں بھی ہے، مشرقی یورپ میں بھی ہے۔بلکہ مشرقی یورپ کے ایک ملک کے متعلق ایک 386