تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 388

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ششم خالصہ تبلیغی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور ان کی زندگی کا مقصد تبلیغ کے سوا اور کچھ نہیں۔اگر صرف ان کی تنخواہوں ہی کا حساب لگا کر آپ دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔اس کے علاوہ بے شمار دوسرے خرچ ہیں، جو ہر ایک پادری کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔مثلاً لٹریچر کی اشاعت ہے، دولت کی مفت تقسیم ہے، لوگوں کو سامان مہیا کرنا، ان کو ہر قسم کے لالچ پیش کرنا، ہسپتالوں ، سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ ان کی مدد کرنا وغیرہ۔یہ اتنی بھاری رقم بن جاتی ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔صرف ان کی تنخواہوں پر ہر سال ارب ہا ارب روپیہ خرچ ہورہا ہے۔جبکہ ہم بے چارے تو غریب لوگ ہیں۔ہمارے پاس سالانہ بجٹ چند کروڑ میں ہے۔اگر یہ سارا روپیہ بھی ہم مبلغوں پر خرچ کر دیں اور ایک آنہ بھی دوسری جگہ خرچ نہ کریں، تب بھی تعداد میں ہزاروں مبلغوں سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔اور وہ دولاکھ پچھتر ہزار کے لگ بھگ ہیں۔اعداد و شمار دینے والے مختلف لوگ ہیں۔کچھ فرق سے اعداد و شمار دیتے ہیں لیکن جو میں نے جائزہ لیا ہے، اس کے مطابق تقریباً پونے تین لاکھ باقاعدہ عیسائی مبلغ اس وقت دنیا میں کام کر رہے ہیں اور اگر اس کے ساتھ مارمن چرچ کے پچاس ہزار سالانہ واقفین زندگی کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد سوا تین لاکھ بن جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ سواتین لاکھ کے مقابل پر ہمارے سو، دو سویا تین سو مبلغ کس طرح نبرد آزما ہوسکیں گے؟ اس کا علاج قرآن کریم نے بیان کر دیا ہے اور یہ کیسا آسان اور کیسا پاکیزہ علاج ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم بلا ؤ اور عمل صالح کے تقاضے پورے کرو اور عمل صالح کے تقاضوں میں یہ بات داخل کر دی ہے کہ انسان نفوس کی قربانی بھی دے اور اموال کی قربانی بھی دے بلکہ مسلمان کی شرط میں یہ داخل کر دیا کہ دعوت الی اللہ کرنے والا ہو۔اس سے زیادہ کھول کر اور کیا بات کی جاسکتی ہے؟ گویا یہ آیت یہ کہ رہی ہے کہ تم اسلام کا بے شک دعوی کر وہ تمہیں کوئی نہیں روکتا۔لیکن اگر ایسے اسلام کا دعوی کرو گے، جو خدا کی نظروں میں حسین اسلام ہے بلکہ سب حسنوں سے زیادہ حسن رکھنے والا اسلام ہے۔تو پھر دعوت الی اللہ لازمی اور پہلی شرط ہے۔پھر دوسری شرط عمل صالح ہے۔پھر اجازت ہے کہ اب کہو کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔نہ صرف اجازت ہے کہ بلکہ فرض ہے کہ پھر یہ کہو کہ میں مسلمان ہوں۔غرض مبلغین کی کمی کا علاج ہمیں بتا دیا۔اگر ہر احمدی اپنے آپ کو اول طور پر مبلغ بنالے اور نفس کی قربانی میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دے تو آپ کے مبلغوں کی تعداد ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے۔بعض جگہ ایک ایک ملک میں آپ کے مبلغوں کی تعداد ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے۔اور یہ خیال کر لینا کہ مبلغ ہونے کے لئے با قاعدہ جامعہ سے پاس ہونا ضروری ہے، بڑی ہی بیوقوفی اور نادانی ہے۔انسان اپنی حیثیت کو نہ پہچاننے کے نتیجہ میں یہ بات سوچتا ہے۔388