تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 374

خطاب فرموده 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اس وقت سپین کی نفسیاتی حالت ایسی ہے کہ وہ محبت کو ترس رہے ہیں۔کیونکہ وہ انسٹی ٹیوشن، جس کو ( Inquisition) انکیو زیشن کہا جاتا ہے۔جب مسلمان اس کی زد سے نکل گئے تو پھر سینکڑوں سال تک وہ خود عیسائیوں پر ظلم ڈھاتی رہی۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں سپین میں غلط مذہبی حکومت کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو چکی ہے۔جنرل فرانکو کی حکومت اس نفرت کے سامنے ایک بندہ تھا، جو ٹوٹ نہیں سکتا تھا لیکن اہل دانش کے سارے اندازے غلط ثابت ہو گئے۔کیونکہ یہ بند اب ٹوٹا ہے تو چرچ کی زیادتیوں کے خلاف ملکی فضا شدید نفرت میں تبدیل ہو چکی ہے۔چنانچہ اندلوسیہ میں جو اشتراکیت پھیل رہی ہے، اس کا پس منظر بھی یہی ہے۔لوگ مذہب سے سخت متنفر ہو چکے ہیں، اس لئے جب ان کو محبت کا پیغام ملا اور مذہب کے نام پر محبت کی بات کی گئی تو وہ حیران رہ گئے اور جوق در جوق مسجد دیکھنے کے لئے آنے لگے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ایک دن بھی ایسا نہیں آیا، جب سپین کے علاقوں کے لوگ بکثرت مسجد دیکھنے نہ پہنچے ہوں۔ہر رپورٹ میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ آج ڈیڑھ سو آدمی آئے ، آج تین سو آدمی آئے، آج اتنے لوگوں کو لے کر آئے۔چنانچہ با قاعدہ مسجد دیکھنے کے لئے لوگ پہنچتے ہیں۔اور یہ لوگ اپنے واقعات بتاتے ہیں کہ ہم نے کہاں سے سنا۔کوئی دور دراز جگہ کے اخبار کی بات بتاتا ہے، کوئی ریڈیو کی بات بتا تا ہے، کوئی ٹیلیویژن کی بات بتاتا ہے۔سپین کے ٹیلی ویژن Net work ( نیٹ ورک) نے سات دن مسلسل سپین کی مسجد کی خبر دینے کے علاوہ وہ باتیں، جو ہم نے عیسائیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں کہتے تھے ، بیان کرنی شروع کیں۔کہنے والے نے تو یہ کہا تھا اور ڈرانے والے نے تو یہ کہہ کر ڈرایا تھا کہ اس تقریب کا بائیکاٹ ہو جائے گا اور کوئی اخبار اس آواز کو شائع نہیں کرے گا لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے کام کر رہے تھے، جو نہ تھکتے ہیں اور نہ ماندہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اس کا صرف میری ذات سے تعلق نہ تھا، اس کا اسلام کی تائید میں دھڑ کنے والے دلوں کی آواز سے تعلق تھا۔چنانچہ ایک حیرت انگیز بات میر محمود احمد صاحب نے چند ہفتے پہلے مجھے لکھی، یہ وہاں کے موجودہ مبلغ ہیں۔انہوں نے لکھا کہ سپین کے ریڈ یونیٹ ورک نے ان کو دعوت دی کہ وہ ان کے ایک پادری سے ریڈیو پر مناظرہ کریں اور اس کے لئے انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت مقرر کیا۔اسلام کی تبلیغ کے لئے اگر ہم ریڈیو سے وقت مانگتے تو چند منٹ کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے لیکن ان کو تبلیغ کے لئے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا۔میر صاحب چونکہ جامعہ احمدیہ میں پروفیسر تھے اور خدا کے فضل سے عیسائیت کے بہت ماہر ہیں، انہوں نے لکھا کہ چند سوالات میں ہی پادری صاحب اتنا گھبرا گئے کہ انہوں نے اپنا وقت 374