تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 375

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء چھوڑ دیا اور پورے ڈیڑھ گھنٹے تک وہی اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔یہ خدا کے فرشتے ہیں، جو دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کر رہے ہیں۔وہاں کی پولیس کا یہ حال تھا کہ وہی پولیس، جس نے مجھے قید کیا تھا، اب اس دفعہ حفاظت کے لئے میرے آگے پیچھے گھوم رہے تھے۔پولیس کی موجودگی میں پریس کے نمائندوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ 1957ء میں جب آپ سپین آئے تھے، اس وقت میں اور اب کے پولیس کے رویے میں کیا فرق دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ایک پہلو سے تو کوئی فرق نہیں دیکھا۔اس وقت بھی میں نے قید ہو کر غرناطہ دیکھا تھا، اب بھی قید ہو کر غرناطہ دیکھ رہا ہوں۔لیکن اس وقت مجھ سے لوگوں کی حفاظت کی جارہی تھی ، اب لوگوں سے میری حفاظت کی جارہی ہے۔میں نے تو یہ فرق دیکھا ہے۔اس کو بھی انہوں نے پسند کیا اور اخبار نے اچھالا کہ پین میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے؟ پہلے ایک بے چارے مسافر سے غلط نہی میں لوگوں کی حفاظت ہورہی تھی کہ کہیں لوگوں کو مارنہ بیٹھے اور اب اسی مسافر کی حفاظت لوگوں سے کی جارہی ہے کہ لوگوں سے اس کو کوئی شر نہ پہنچے۔اور وہ اس بات کو ایسی محبت سے کر رہے تھے، جو عام طور پر پولیس میں دیکھنے میں نہیں ر آتی۔یعنی فرض شناس پولیس افسر بڑی اچھی طرح عوام کی خدمت کرتا ہے۔لیکن جب تک محبت کا پہلونہ ہو، وہ باتیں ہرگز رونما نہیں ہو سکتیں، جو ہم نے وہاں دیکھیں۔مثلاً رات کو جب ہم پریس انٹرویو سے فارغ ہوئے تو پولیس کے جو دوست حفاظت پر متعین تھے، وہ اس رات ڈیڑھ بجے تک ہمارے دروازے کے سامنے کھڑے تھے اور اس کا مجھے اس طرح پتہ لگا کہ میں ایک منٹ کے لئے باہر آیا کیونکہ ہم نے صبح کی نماز کا وقت مقرر کرنا تھا۔خیر جب میں باہر آیا تو دیکھا کہ وہ دروازے پر کھڑے ہیں۔میں نے ان سے کہا: آپ آرام فرما ئیں ، بہت تھک گئے ہوں گے۔تو انہوں نے کہا کہ میں اس شرط پر آرام کروں گا کہ آپ مجھ سے وعدہ کریں، صبح جب تک میں نہ آجاؤں، آپ ہوٹل سے باہر نہیں نکلیں گے۔ہوٹل میں تو ہم نے نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے باہر نکلنا ہی تھا۔پھر ان کا حال یہ تھا کہ دروازہ کھولنے کے لئے بعض دفعہ دوڑتے تھے۔جس طرح ڈرائیور آگے بڑھ کر دروازہ کھولتے ہیں، اس طرح آگے پیچھے انہوں نے خود بھی اور ان کے دستے نے بھی ہماری حفاظت کی۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل تھی، کوئی پرواہ نہیں تھی۔مگر انہوں نے اپنی طرف سے اس طرح خدمت کا حق ادا کیا کہ میں سمجھا کہ کوئی جو نیز آفیسر ہے۔جب میں نے اس کے متعلق اپنے مبلغ سے کہا کہ ذرا پتہ کرو، یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ غرناطہ کے چیف آف پولیس ہیں یا اس علاقے کے چیف ہیں، جس میں ہم رہائش پذیر تھے۔مجھے صحیح پتہ نہیں، ان کا سٹم کیا ہے؟ مگر وہ 375