تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 367
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء نہیں ہوں گے۔اس لئے اپنے Documents یعنی ضروری کاغذات وغیرہ کی حفاظت کرنا۔پیسے تو چلو غائب ہو گئے تو پھر آ بھی جائیں گے لیکن اہم کاغذات کے بغیر چارہ نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ جب غرناطہ میں الحمراء دیکھنے گیا تو پاسپورٹ گھر چھوڑ گیا۔انہوں نے مجھے ڈرایا تو بہت لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ ہر گاڑی میں پولیس چیک کرتی ہے۔چنانچہ ابھی میں گاڑی میں جا کر بیٹھا ہی تھا تو دیکھا کہ پولیس والے آگئے ہیں۔انہوں نے کہا: جناب نکالیں، اپنے ڈاکومنٹس (Documents) اشاروں میں سپینش کے ایک دو لفظوں کا تو پتہ لگ ہی جاتا تھا۔میں نے معذرت کی۔میرے ایک دوست میر محمود احمد صاحب، جو میرے عزیز بھی تھے، میرے ساتھ سفر کر رہے تھے۔انہوں نے پاسپورٹ نکال لیا تو مجھے انہوں نے کہا: اب تو تمہیں قید کرنا پڑے گا۔اور یہاں کوئی جیل نہیں ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم ہمارے ساتھ آؤ فرسٹ کلاس کے ڈبہ میں خالی جگہ تھی، مجھے تھرڈ کلاس سے اٹھا کر فرسٹ کلاس میں قید کر دیا گیا۔بڑی اچھی رات گزری۔سات آٹھ گھنٹے ریل کا سفر بڑے مزے سے کٹ سے گیا۔غرناطہ پہنچے تو انہوں نے مجھے ایک تھانے میں پہنچا دیا۔میں نے ان سے کہا: میں تو الحمراء دیکھنے آیا ہوں، یہ تم نے میرے ساتھ کیا قصہ کیا ہے۔لیکن پولیس اہلکار نہ میری بات سمجھے، نہ میں اس کی سمجھوں۔آخر اتفاق سے ایک سپاہی تھایا کوئی مقامی آدمی تھا، اس نے مجھے بتایا کہ یہاں ایک امریکن ہوٹل ہے، اس میں ایک ترجمان بہت اچھا موجود ہے۔کہو تو اس کو بلوا دوں؟ میں نے کہا: ضرور بلواؤ۔چنانچہ جب امریکن ترجمان کو بلوایا گیا تو میں نے کہا: مجھے اور کچھ نہیں چاہیے، تم میڈرڈ فون کرو، وہاں ہمارے ایک دوست ہیں کرم الہی ظفر ، ان سے میری بات کروا دو۔اس نے فون کیا، میں نے ان سے کہا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔اس پر زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا ، میڈرڈ سے پولیس چیف کا فون آیا، جو سارے سپین کا چیف تھا اور اتنا مشتعل تھا، اس بات پر کہ میں نے تو صرف پولیس افسر کی یہ حرکت دیکھی کی سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا اور بات اس سے کرتا تھا اور سلوٹ مجھے مارتا تھا اور نہایت عاجزی اور گریہ وزاری کے ساتھ مجھ سے اس نے معافی مانگی اور بڑی عزت کے ساتھ ایک آدمی کو میرے ساتھ بھیجا کہ ان کو سارا الحمراء دکھالا ؤ۔یہ زمانہ بھی مجھے یاد ہے۔غرض اس پس منظر میں ہم نے وہاں مسجد بنائی۔مسجدیں تو بنتی رہتی ہیں اور اگر ظلم کا شکار ہو کر کھنڈرات میں تبدیل نہ ہو جائیں تو Monuments (مانومنٹس) یعنی یادگاروں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔اور جب نمازی نہ رہیں تو یہ ماضی کی شان شوکت کی داستانیں بن جایا کرتی ہے اور دیکھنے والوں کے لئے ایک نظارہ عیش پیدا کرتی ہیں اور بس۔مگر اس مسجد میں ایک خاص بات ہے اور وہ یہ کہ مسجد انتہائی 367