تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 365

خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ساتھ چلیں میں آپ کو بتادوں گا کہ کیسے تبلیغ کی۔میں نے کہا: ٹھیک ہے۔صبح جب ہم روانہ ہوئے تو ان کے ہاتھ میں نہ کوئی کتاب تھی، نہ کوئی بگیا اور نہ عطر کا کوئی اور سامان تھا۔میں تعجب سے دیکھتا اور ان کے نہ ، کا اور ساتھ چلتا رہا۔یہاں تک کہ ہم ایک دکان پر پہنچ گئے۔انہوں نے دکاندار سے سپینش زبان میں کچھ کہا۔اس نے دکان کے تختے کے نیچے سے کواڑ کھول کر ریڑھی نکالی، اندر سے ایک نگچا دیا ، جس میں عطر وغیرہ کا سامان تھا۔پھر ایک اور تھیلا دیا، جس میں کچھ لٹریچر تھا۔جسے انہوں نے ریڑھی میں سجایا اور میڈرڈ ( عربی ) میں اسے ماترید کہتے ہیں) کے ایک چوک میں لے جا کر آواز بلند کرنی شروع کی۔ایک پرانی طرز کا عطر سپرے کرنے والا پمپ ان کے پاس تھا۔یعنی ربڑ کا ایک گولا سا تھا ، جس کو دبا کر عطر سپرے کرتے تھے۔وہ اپنی طرف توجہ دلانے کے لئے آواز بلند کرتے جاتے تھے اور راہ گیروں پر عطر سپرے کرتے تھے۔چنانچہ اس اثناء میں، میں نے دیکھا بہت سے راہ گیر اس دلچسپ نظارہ سے متاثر ہو کر اور کچھ ایشیائی خوشبو سے اثر لے کر وہاں کھڑے ہو گئے۔اس طرح جب ایک مجمع لگ گیا تو انہوں نے سپینش زبان میں کہا۔اس کا بعد میں ترجمہ کر کے بتایا۔وہ یہ تھا کہ بھائیو! آج میں تمہارے اوپر ایک خوشبو چھڑک رہا ہوں اور میں ایک خوشبو بیچنے والا انسان ہوں۔تم میں سے جس کو پسند آئے گی ، وہ خرید کر چلا جائے گا۔لیکن میرا فرض ہے کہ اس خوشبو کی بعض کمزوریاں بھی تمہیں بتاؤں۔یہ خوشبو عارضی ہے۔آج نہیں تو کل تمہارے کپڑوں کو سے زائل ہو جائے گی۔بہت دیر بھی لگی تو پھر بھی تمہارے کپڑوں سے دھل جائے گی۔اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔لیکن میرے پاس ایک اور خوشبو بھی ہے۔جسے میں بیچنے کے لئے مفت دینے کے لئے آیا ہوں۔اور وہ ایک ایسی خوشبو ہے، جس کا اثر موت کے بعد بھی زائل نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تمہارے ساتھ چلے گی۔یہ اسلام کی خوشبو ہے۔اگر کسی کے دل میں دلچسپی پیدا ہوتو شوق سے میں اسے دعوت دیتا ہوں۔یہ میرا کارڈ ہے، اسے لے لیں۔پبلک میں یہاں تو مجھے اجازت نہیں کہ اسلام کے بارہ میں آپ کو کچھ کہوں۔آپ جب چاہیں، ہمارے گھر تشریف لائیں۔میں آپ سے گفتگو کروں گا۔اور اگر ، کوئی دوست مجھے اپنا کارڈ دینا چاہیں تو وہ شوق سے مجھے کارڈ دے جائیں۔چنانچہ کچھ لوگ تو بڑ بڑاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور کچھ اور لوگوں نے کارڈ (exchange) تبدیل کئے اور اس کے بعد پھر شام کو کبھی کسی کا فون آیا اور کبھی کسی کا۔انہوں نے ملاقات کے لئے وقت مانگا۔غرض اس تمام عرصہ میں ان کو فاقے بھی پڑے، ان کو تکلیفیں بھی آئیں ، ان کو تھانے بلا کر کئی کئی دن محبوس رکھا گیا۔ان کے چھوٹے سے حجرے پر حملے بھی ہوئے۔میں نے خود اپنی آنکھوں سے ان کے 365