تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 364
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک تقسیم کئے جارہے تھے۔چنانچہ اس خطبہ کے بعد جب تقسیم شروع ہوئی تو ہر دل میں یہ تمنا بے قرار تھی کہ کاش سپین کی سرزمین کے لئے میرا نام ہو۔وہ نام تقسیم ہوئے اور لوگ جن کو مختلف فرائض سونپے گئے ، وہ خوش خوش اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے لیکن ایک نوجوان کرم الہی ظفر سر جھکائے آبدیدہ اپنے گھر کو واپس لوٹ رہا تھا۔اس کو اس بات کی حسرت تھی کہ خدا جانے کہ میری کیا شامت اعمال ہے یا میری نیت کا کیا قصور ہے کہ مجھے کسی جگہ بھی تبلیغ کے لئے پسند نہیں کیا گیا۔قادیان میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے، جہاں ریت کا ایک چھتہ سا بنا ہوا ہے۔ہم اسے ریتی چھلہ کہتے تھے۔وہ ریتی چھلے پہنچا تو بعض واقفین نے اس کو آگے بڑھ کر سینے سے لگالیا اور مبارک بادیں پیش کرنے لگے۔اس نے تعجب سے کہا کہ مجھے کیا مبارک بادیں دیتے ہو، میں تو مبارک کے لائق نہیں ہوں۔مجھے تو میرے امام نے اس قابل نہیں سمجھا کہ میں دین کی خدمت کر سکوں۔مبارک کے قابل تو تم ہو۔انہوں نے کہا تمہیں علم نہیں، تم جب چل پڑے تو اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ سرزمین سپین کے لئے تمہیں پہلا مبلغ بنایا جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں ایک گہرے درد کی آواز تھی، جسے خدا نے قبول فرمالیا لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس زمانہ میں بھی سپین کی حکومت انتہائی متشدد مذہبی حکومت تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ ان کو کیسے بھجوایا جائے؟ کس طرح ان کے گزارے کا سامان مہیا کیا جائے؟ وہاں کی حکومت سے اجازت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ ان سے یہ کہا گیا کہ آپ کا نام تو سپین کے لئے چن لیا گیا ہے لیکن جماعت احمد یہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کرے گی کہ آپ کو سپین میں داخل ہونے تک کا کرایہ دے گی۔اس کے بعد آپ جانیں اور خدا جانے۔جس طرح بھی آپ کی پیش جائے اور بس چلے ، اس طرح اپنا گزارہ کریں۔انہوں نے کہا: مجھے منظور ہے۔چنانچہ جب پہلی دفعہ پین گئے تو تین مہینے کے اندر اندر اس عذر پر ملک سے نکال دیئے گئے کہ آپ کے پاس چونکہ اپنی آمد کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور باہر سے آپ کو کوئی امداد نہیں ملتی ، اس لئے آپ کا سپین میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔اس پر وہ انگلستان آئے اور وہاں چھ مہینے ٹھہرے رہے۔اس عرصہ میں انہوں نے عطر سازی کا کام سیکھا۔جیسی تیسی بھی عطر سازی وہ کرتے تھے، اس کو اپنی آمد کا ذریعہ بنا کر وہ دوبارہ پین چلے گئے اور تبلیغ کا ایک خاص طریق اختیار کیا۔میں پہلی مرتبہ اکتوبر 1957ء میں جب سپین گیا تو ان کے کمرے میں اس وقت جب انہوں نے اجلاس بلایا تو خدا کے فضل سے میں نو مسلم اکٹھے ہوئے تھے۔مجھے اتنی تعداد دیکھ کر تعجب ہوا۔میں نے کہا: آپ نے اتنے خطرناک حالات میں اتنی کامیاب تبلیغ کیسے کی ؟ انہوں نے کہا: میاں ! کل میرے 364