تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 347

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم ارشادات فرمودہ 30 دسمبر 1982ء شیعه ازم کو موجودہ صورت میں، اس شیعہ ازم کو مخاطب کرنے کے لئے ، جو ایران میں رائج ہے، کیا ذرائع ہو سکتے ہیں؟ اس پر آدمی مقرر ہیں۔جو خود بھی کام کر رہے ہیں اور لٹریچر ہمیں تازہ ترین بھجوا رہے ہیں۔اور خدا کے فضل سے جولٹر پچر آرہا ہے، اس کا ساتھ ساتھ خلاصہ تیار ہو کے مجھے پہنچ جاتا ہے۔اس کو دیکھ کے ہم دو کا پیاں کر لیتے ہیں۔ایک میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور ایک تصنیف میں واپس چلا جاتا ہے۔اس سلسلے میں جو جائزہ ابتدائی لیا گیا، یہ بات بھی کھل کے سامنے آئی کہ ایک تو یہ کہ ہمارا لٹریچر جو پرانا ہے، وہ ایسی فارسی زبان میں ہے، جو موجود الوقت فارسی سے بہت مختلف ہو چکی ہے۔اس لئے اس کے باوجود ہمیں جدید لٹریچر تیار کرنا پڑے گا۔دوسری یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں ان لوگوں کو احمدیت کے متعلق اتنی غلط فہمی ہے کہ جب احمدیت کا نام سنتے ہیں تو بہائیت کے ساتھ نعوذ باللہ من ذالک بریکٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔اور بہائیت کے خلاف خود وہ بیدار ہورہے ہیں، خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔لیکن ان کے پاس بہائیت کے خلاف دلائل نہیں ہیں۔اس لئے سب سے پہلا لٹریچر، جو ہم ایرانی کو مخاطب کرنے کے لئے تیار کریں گے۔اور کام اس پر شروع کر دیا گیا ہے، وہ ہے، ” بہائیت کے خلاف اسلام کا دفاع اور اس کو کثرت کے ساتھ سب جگہ جہاں جہاں ایرانی ہیں، مہیا کریں گے۔ایک تو خدمت اسلام ہے، براہ راست۔اسلام کے نام پر بہائیت کا جو حملہ ہے، وہ بڑا خطرناک ہے۔کہیں یہ اسلام کی نمائندہ بن جاتی ہے، کہیں اسلام کی دشمن بن جاتی ہے، کہیں عیسائیت کا نمائندہ بن جاتی ہے۔چھلاوہ ہے، ایک قسم کا۔ماڈرن زندگی کا Half Goblin ہے۔اس لئے اس کو فوری طور پر ہمیں شامل کرنا پڑے گا، اپنے جہاد کے اندر۔اس کے نتیجہ میں بہت ساری غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اور تعارفی لٹریچر بھی اتنی دیر میں تیار ہو جائے گا۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ مہیا کیا جائے گا۔یہ فارسی زبان میں تھا۔اب جو بات سامنے آئی۔مشورے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اہل فارس کو مخاطب کرنے کے لئے عربی زبان کی بڑی ضرورت ہے۔تو جزاکم اللہ احسن الجزاء۔انشاء اللہ اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھ لیا جائے گا“۔یہ جو تجویزیں ہیں، ان پر جو اس وقت عمل درآمد ہو رہا ہے ، وہ میں عرض کر دیتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ لٹریچر کے متعلق دو تین زاویوں سے فیصلہ طلب باتیں ہیں۔اس وقت یہ ہورہا ہے کہ ہر مشن اپنے رنگ میں اپنی اپنی ضروریات کے مطابق کچھ نہ کچھ لٹریچر شائع کرتا رہتا ہے۔ایک تو اس قسم کے سارے لٹریچر کا معیاری ہونا محل نظر ہے۔دوسرا اشاعت کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔معیار بھی 347