تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 348
ارشادات فرموده 30 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک الگ الگ ہو گئے ہیں بالکل۔تعلیم مختلف جہت میں دی جارہی ہے۔اس میں بھی یہ ضروری نہیں کہ یکسانیت باقی رہے۔تو یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ مرکزی طور پر کہ سارا لٹریچر جو شائع ہوا ہے، اس کی اپنی تناسبی قدر کیا ہے؟ نسبتی قدر کیا ہے؟ اس کی Value کیا ہے، دوسرے کے مقابل پر ؟ ایک تو ان کو اختیار کر کے پھر یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کیوں نہ بعض حصے امریکہ کے سپر د کر دیئے جائیں ، بعض کسی اور مشن کے بعض کسی اور مشن۔اور اگر یہ قابل عمل ہو ا قتصادی لحاظ سے اور ترسیل کے اخراجات زیادہ نہ پڑتے ہوں تو پھر بعض مشن مثلاً پچاس ہزار ایک کتاب شائع کریں اور وہ ساری دنیا میں سپلائی ہو جائے۔بعض اور مشن Participate کریں کسی اور کتاب میں اور وہ اس طرح شائع کر دیں۔ان چیزوں کے لئے وقت درکار ہے۔مشکل یہ ہے کہ اگر آپ Planning میں جلدی کریں گے تو تنفیذ میں خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔اس لئے بعض باتوں میں لازماً ہمیں کچھ صبر کرنا پڑے گا۔فی الحال جو فوری سکیم ہے، وہ یہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کی موجودہ تقریریں ساری ترجمہ کر کے باہر بھجوادی جائیں گی ، مختلف زبانوں میں۔چاہے یہ تعداد میں تھوڑی شائع ہوں۔جنہوں نے اس میں سے کوئی چیز شائع کرنی ہوگی، آگے وہ اپنے طور پر کریں گے۔اس سے فی الحال جماعتیں محروم ہیں۔جلسہ سالانہ کے موقع پر تربیت اولاد کے سلسلہ میں اور موضوعات پر جن کی آپ کو ضرورت ہے۔علماء نے اتنی اچھی اچھی محنت کے ساتھ تقریریں تیار کی ہوئی ہیں اور وہ سارا انبارد با پڑا ہے۔تو بجائے اس کے کہ نئے مصنفین بیٹھیں ، نئی منتیں کریں۔حسب ضرورت آپ کی طرف سے ضرور تیں ہم تک پہنچیں اور فورا متعلقہ تقریر وہاں سے نکال لی جائے یار یویو میں جو چھپے ہوئے مضامین ہیں، ان کی بھی فہرستیں بنائی گئی ہیں کہ فلاں ریویو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں اس موضوع پر قلم اٹھایا گیا تھا اور وہ اتنا مؤشر ہے مضمون کہ میں نے جب پہلے دیکھا تو بے اختیار دل سے گواہی اٹھی کہ یہ تو ہے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام مولوی محمد علی صاحب کا ہوگا۔پھر میں نے تحقیق کی تو پتہ لگا کہ مولوی محمد علی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھوایا کرتے تھے اور پھر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے گواہی دی کہ میں نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے براہ راست یہ روایت سنی ہے کہ واقعہ یہ ہوتا تھا۔اس لئے conjecture کی بات یا تصور کی بات نہیں رہی۔ہوتا ہی یہی تھا۔اس لئے ان کی بے حد قیمت ہے۔تو ہمارے پاس بہت سا کام موجود ہے۔ہمیں پتہ نہیں اس وقت کہ کہاں کہاں کیا کیا پڑا ہوا ہے؟ آپ جا کر اپنے مطالبے بھیجیں معین۔ان مطالبوں کو اکٹھا کریں گے تو وہ ہمیں بڑی مدد دیں گے۔مطالبوں کو ہم اکٹھا کریں گے اور پھر اشاعت کی سکیم بنانے میں انشاء اللہ تعالیٰ بہت سہولت پیدا ہو جائے گی“۔348