تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 327

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء نے خود تسلیم کیا اور اظہار کیا کہ ہم آہستہ آہستہ اتنے دور چلے گئے تھے کہ نمازوں کی عادت بھی نہیں رہی تھی۔یہ نوجوان نہ صرف نمازوں کے عادی ہوئے بلکہ تہجد بھی پڑھنے لگے۔اور تہجد بھی ایسی گریہ وزاری کے ساتھ ادا کر نے لگے کہ ان کو دیکھ کر دوسرے دوستوں کو رشک آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کیسا سوز و گداز پیدا کر دیا ہے۔پس یورپ کے احمدیوں کو عبادت کی طرف غیر معمولی توجہ میرے نزدیک اس سفر کا سب سے بڑا پھل ہے۔ان لوگوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے دعائیں کرتے ہوئے بکثرت آنسو بہائے ہیں۔ان میں سے ہر آنسو انشاء اللہ بڑھے گا، پھیلے گا اور نشو و نما پائے گا۔اور نئے پاک وجودوں کی پرورش کرے گا اور آبیاری کرے گا۔یہ ایک ایسا پھل ہے، جس کو شمار میں بھی نہیں لایا جا سکتا اور اہل دنیا کا حساب اس کو سمیٹ ہی نہیں سکتا۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے، اس میں بھی جماعت حیرت انگیز طور پر آگے بڑھی ہے۔مثلاً ناروے کی جماعت ہے، وہاں کے امیر کمال یوسف صاحب جلسہ پر تشریف لائے ہوئے ہیں، انہوں نے کی اعداد و شمار پیش کر کے بتایا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں وہاں کی جماعت کی جو کل آمد تھی ، صرف پچھلے تین مہینوں میں اس سے زیادہ ہو چکی ہے۔اور وہ مشن، جواب تک خود کفیل نہیں تھا، وہ اب خود کفیل ہو چکا ہے۔اس سلسلے میں جرمنی سے اور دوسری جگہوں سے بھی بڑی کثرت کے ساتھ خطوط آ رہے ہیں۔ان کو پڑھ کر میرادل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے اور اس کے فضلوں کو دیکھ کر اس کی حمد کے ترانے گانے لگتا ہے۔اور ایسا مزا آتا ہے کہ ایک وجد آور نشے کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ایک جماعت کے سیکرٹری صاحب مال نے لکھا کہ میں سالہا سال سے کوشش کر رہا تھا کہ جماعت کے دوست با شرح چندہ ادا کرنا شروع کریں۔اس کے لئے مختلف کوششیں کی گئیں۔ان کے بزرگوں سے بھی کہلوایا گیا لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے ہمیں مارک مقرر کر لئے تھے کہ اس زیادہ چندہ نہیں دینا۔انہوں نے لکھا ہے کہ آپ کے دورے کے بعد جماعت کے یہ دوست خود بخود میرے پاس آنے لگے۔کسی نے کہا: میرا چندہ ایک سو ہیں مارک لکھ لیں اور کسی نے کہا: ایک سو پچھیں مارک لکھ لیں۔گویا وہ خود آ کر شوق سے کئی گنازیادہ چندہ پیش کرنے لگے ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں، دلوں پر تو کسی کو تصرف حاصل نہیں۔اللہ تعالیٰ کے یہ فضل کئی شکلوں میں نازل ہوئے اور نازل ہو رہے ہیں اور تمام ملکوں میں یہی کیفیت ہے۔لنڈن کی جماعت پہلے ہی بڑی مستعد تھی اور اس کا چندے کا معیار باقی کئی ملکوں کی جماعتوں کی نسبت بہتر تھا لیکن ابھی مکرم شیخ 327