تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 326
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جاسکتا تھا، اس لئے کچھ نہ کچھ اصلاحی کا روائی کرنی پڑی۔لیکن اس کے نتیجہ میں یہ فائدہ ہوا کہ تحریک جدید اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس فرض کو بڑی بیدار مغزی کے ساتھ ادا کرنے لگی ہے“۔وو سلسلہ کی طرف سے جو متفرق کام کئے جارہے ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مستحقین اور محرومین اور سائلین کی ایسی ضرورتوں کو پورا کیا جائے ، جو ملک کے اقتصادی حالات کے پیش نظر عام انسان کے بس کی بات نہیں رہی۔چنانچہ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس منصوبے کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور سال بہ سال اس رقم میں اضافہ ہوتا رہا، جو کارکنان سلسلہ اور محرومین پر خرچ کی جاتی ہے۔اس سال کارکنوں پر تیرہ لاکھ ، چوراسی ہزار روپے کی رقم خرچ ہوئی۔جبکہ غیر کارکنوں پر خرچ ہونے والی رقم 11 لاکھ 46 ہزار چھ سو، پینتیس تک جا پہنچی۔اس میں صدر انجمن ،تحریک جدید ، وقف جدید فضل عمر فاؤنڈیشن اور دوسری ساری تنظیمیں ہیں۔وو میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے پھل ختم بھی نہیں ہوتے کہ مزید آنے شروع ہو جاتے ہیں، اس لئے خدا کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ابھی میں نے ریویو کے متعلق کہا تھا کہ اسی سال دس ہزار شائع ہونا ضروری ہے۔اور یہ بھی کہا تھا کہ اخراجات کی فکر نہ کریں۔اللہ تعالی نے اس کا انتظام ابھی فرما دیا ہے۔چنانچہ کراچی کے ایک دوست کلیم اللہ خاں صاحب نے کہا ہے کہ یہ سارا خرچ میں خود برداشت کروں گا، بڑے شوق سے اس سکیم کو آگے چلائیں۔( نعرے) پس جس جماعت کا خدا اتنا محسن ہو اور اتنا کرم کرنے والا ہو، اس کو دنیا کا کیا خوف ہے۔ساری دنیا کی مخالفتیں جو دکھ آپ کو پہنچاتی ہیں، ایک دن اور ایک رات میں اللہ کے جو فضل نازل ہوتے ہیں ، وہ سارے دکھوں کو دور کر دیتے ہیں۔جہاں تک حالیہ دورہ سپین اور یورپ کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کے ساتھ اس دورہ کو اسلام کے لئے بہت ہی کامیاب فرمایا۔جیسا کہ بارہ مختلف رنگ میں بیان کیا جا چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر کوششوں کو ایسے شیریں پھل عطا فرمائے ، جو انشاء اللہ تعالی آئندہ بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔وہ خدا کے ایسے عطا کردہ پھل ہیں کہ ان کو آپ جتنا بھی کھائیں ، وہ کم نہیں ہوتے بلکہ اور بڑھ جاتے ہیں۔اس سلسلے میں، میں پہلے بہت سی مثالیں دے چکا ہوں، اس لئے ان کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔لیکن بہر حال میں اس وقت چند ایک باتیں بیان کر دیتا ہوں۔یورپ کے سفر کے جو عمومی تاثرات ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جماعت کو عبادت کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ ہوئی۔ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں ایسے نوجوان ہیں، جنہوں 326