تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 23

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 20 اگست 1982ء اليس الله بکاف عبده خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اگست 1982ء جماعت احمدیہ پر مختلف ادوار ایسے آتے رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی آزمائشوں کا دور ہوتا تھا۔اور مخالفتوں کے ایسے ایسے خطرناک زلزلوں اور ابتلاؤں میں سے جماعت گزرتی رہی کہ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ یہ عمارت اب منہدم ہونے کو ہے۔چنانچہ وہ لوگ، جن کے چھوٹے دل اور سطحی نظریں تھیں، انہوں نے خوشیوں کے شادیانے بجانے شروع کر دیئے اور یہ مجھنے لگے کہ یہ چند دن کی بات ہے، اس کے بعد دنیا میں جماعت کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔یہ خدا کا فضل واحسان ہے کہ ابتلاء کے ہر دور کے بعد جماعت نے پہلے سے مختلف نظارہ دیکھا۔دشمنوں کی جھوٹی خوشیاں پامال کی گئیں اور جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے نیا استحکام بخشا بنی تمکنت عطا فرمائی، نئے ولولے بخشے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے احباب جماعت کے دلوں میں نئی امنگیں ڈالی گئیں اور وہ نئی منزلوں کی طرف پہلے سے زیادہ تیز قدموں کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے، جو ہر دور میں اسی طرح ظاہر ہوئی ہے اور ہمیشہ اسی طرح ظاہر ہوتی رہے گی۔کوئی نہیں، جو اس خدائی تقدیر کو بدل سکے۔اس ضمن میں کچھ تقاضے ہم سے بھی ہیں۔یہ وفا کے تقاضے ہیں۔صبر کے تقاضے ہیں۔استقلال کے ساتھ اپنے رب کی راہوں پر گامزن رہنے کے تقاضے ہیں۔اس کی ہر رضا پر راضی رہنے کے تقاضے ہیں۔خواہ جنگی کی صورت ہو یا آسانی کی صورت، ہر حال میں رب کریم کے حضور سر تسلیم خم کرنے کے تقاضے ہیں۔اگر ہم یہ تقاضے پورے کرتے رہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو ہمیشہ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ہمارے حق میں پورا کرتا رہے گا۔جرمنی کی جماعت اس پہلو سے خدا کا ایک زندہ نشان ہے۔اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے میں نے 1974ء سے پہلے کا چندے کا ریکارڈ نکلوایا اور پھر 74ء کے بعد کے چندے کا ریکارڈ دیکھا۔تو یوں معلوم ہوا کہ پہلے دور کو بعد کے دور سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔یہ وہ ملک ہے، جہاں کی جماعت احمد یہ بعض اوقات خود کفیل بھی نہیں ہوتی تھی۔اور جسے باہر کی جماعتوں کے ذریعہ مدددینی پڑا کرتی تھی۔اور جو وو 23