تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 24

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 20 اگست 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم تھوڑ اسا چندہ آہستہ آہستہ بڑھتا رہا، وہ بمشکل اس مقام تک پہنچا کہ یہ جماعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔پھر وہ زلزلے آئے ، جن کا میں نے ذکر کیا۔پھر اللہ کی راہ کے مہاجرین اپنے ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اس ملک میں آکر اللہ کے فضلوں اور رحمتوں کے سہارے پر انہوں نے پناہ لی۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا سایہ وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے دیکھتے اس ملک کی جماعت احمدیہ کی کایا پلٹ گئی۔چنانچہ یہ جماعت، جو بعض دفعہ اپنے کام چلانے کے لئے دوسری جماعتوں کی مرہون منت ہوا کرتی تھی، نہ صرف خود کفیل ہو گئی بلکہ اس نے کئی دوسری جماعتوں کے بوجھ اٹھالئے۔اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ کی ان جماعتوں میں شمار ہوتی ہے، جو اپنے بوجھ اٹھانے کے بعد باہر کی جماعتوں کے بوجھ بھی اٹھا رہی ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں بھی سلسلہ کو ضرورت پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی کی جماعت کے چندہ میں سے ایک خطیر رقم اس طرف منتقل کر دی جاتی ہے۔پس یہ ہے، وہ الہی نشان اور اس کے فضلوں کا وہ پہلو، جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بنیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جرمنی کی جماعت کے اکثر نوجوان بڑی مشکلات میں سے گزر رہے ہیں اور گزرتے رہے ہیں۔میرے دل میں ان کے لئے خاص طور پر محبت کے جذبات موجزن ہیں۔اس لئے کہ انہوں نے پیش آمدہ مشکلات کے باوجود خدا کے حقوق ادا کئے اور سخت مشکلات میں سے گزرتے رہنے کے باوجود حمد باری سے ان کے سینے معمور اور یاد الہی سے ان کی زبانیں تر رہیں۔اور جب کبھی خدا کی خاطر ان سے مالی قربانی کی اپیل کی گئی تو انہوں نے اس بارہ میں کسی قسم کی کنجوسی نہیں دکھائی۔بہت سے ایسے دوست بھی ہیں، جو خدا کے فضل سے موصی ہیں، جو شرح کے مطابق اپنے چندے ادا کرتے ہیں۔ان کے حالات اپنے ملک میں ایسے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ واپس جا کر ان کا کیا بنے گا؟ بعض دوستوں کے حالات جرمنی میں ایسے ہیں کہ ان کا سارا مستقبل بظاہر مخدوش نظر آتا ہے۔لیکن جب خدا کی خاطر ان کو اپنے پاک مالوں سے جدا ہونے کی اپیل کی جاتی ہے، جو انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ پاکیزہ رزق کے طور پر کمائے ہوتے ہیں تو بڑے کھلے دل کے ساتھ وہ خدا کی راہ میں ان عزیز مالوں سے جدا ہوتے ہیں۔وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ہمارا کیا بنے گا؟ میں ان کو بتا تا ہوں کہ ان کا وہی بنے گا، جو ہمیشہ خدا کے بندوں کا بنا کرتا ہے۔اللہ ہی ہے، جوان کا کفیل ہے۔اللہ ہی تھا، جو ان کا کفیل تھا۔اور اللہ ہی ہے، جو آئندہ بھی ہمیشہ ان کا کفیل رہے گا۔ان کی قربانیاں ان کے مستقبل کی ضمانتیں ہیں۔24