تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 316
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اس منصوبہ کے تحت ہم جو کتب پیش کریں گے، وہ نہایت اعلیٰ اور معیاری ہوں گی۔اگر یہاں نہیں چھپ سکیں گی تو باہر چھپیں گی۔کام تو بہر حال نہیں رک سکتے۔اس لئے انشاء اللہ نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف بہت ہی پیاری عمدہ دیدہ زیب اور اعلیٰ معیار کی کتب جماعت کے سامنے پیش کرے گی۔ایک اور کمی ، جو جماعت بڑی شدت سے محسوس کر رہی ہے، وہ تفسیر کبیر کا فقدان ہے۔یہ تفسیر اتنی عظیم الشان ہے کہ بہت سے غیر مذاہب والے جب اس تفسیر کے کچھ حصے میں سے گذرے تو صرف اس تفسیر کے نتیجہ میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اس لئے تفسیر کبیر کی اردو شاعت کی بھی بہت ضرورت ہے۔اور انگریزی اشاعت کی بھی بہت ضرورت ہے۔کیونکہ ہمارا ایک بہت بڑا طبقہ انگریزی بولنے والا ایسا ہے، جس کو اردو سمجھ نہیں آسکتی۔ہمیں لازماً ان کا حق پورا کرنا ہے۔اسی طرح مجھے بہت سے عرب ملے ہیں، جنہوں نے تفسیر کبیر کے ایسے حصے کا مطالعہ کیا، جس کا انگریزی سے عربی میں ترجمہ ہو چکا تھا۔مثلاً ہمارے مصری بھائی بسیونی صاحب نے کچھ ترجمہ کیا تھا، وہ عرب اس تفسیر سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا: ہمیں تو ایک خزانہ ہاتھ آگیا۔ہم تو حیران ہو گئے کہ قرآن کریم کی عظمت ہے کیا ؟ یہ تفسیر اتنی عظیم الشان ہے اور آپ ہمیں اس سے محروم رکھ رہے ہیں۔چنانچہ تفسیر کبیر کی اشاعت کی طرف اب اس رنگ میں توجہ دی جارہی ہے کہ سب سے پہلے تفسیر کو نسبتاً چھوٹی شکل میں شائع کیا جائے۔اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ حل لغات کے بہت سے حصے، جو عام آدمی کے کام نہیں آتے ، صرف علماء کے کام آتے ہیں، اس میں سے نکال دیئے جائیں۔اسی طرح بعض ایسے حصے بھی نکال دیئے جائیں ، جن سے مضمون میں کوئی کمی نہ آئے۔اس طرح الفاظ میں تبدیلی کئے بغیر اور مضمون کو زیادہ نقصان پہنچائے بغیر۔( یعنی اس کا بہت معمولی حصہ شاید کم ہو۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے نسبتا کم جلدوں میں عوام الناس کے سامنے یہ تفسیر رکھ سکتے ہیں۔تا کہ اس کا خریدنا بھی ان کی حد استطاعت میں ہو اور سمجھنے کے لحاظ سے بھی ان کے لئے آسانی ہو۔یعنی زیادہ گہرے ٹھوس اور علمی حصے، جو عموماً ان کو ویسے ہی سمجھ نہیں آتے ، ان کے بغیر ان کو تفسیر کبیر کا مرکزی حصہ مہیا ہو جائے۔چونکہ تفسیر کبیر کی جلد اشاعت کی ضرورت ہے اور وسائل کم ہیں، اس لئے فی الحال نسبتاً چھوٹی صورت میں شائع کی جارہی ہے۔ورنہ تو ساری تفسیر کبیر شائع ہونی چاہیے اور انشاء اللہ تعالی ساری بھی شائع ہوگی۔بہر حال فوری ضرورت کے پیش نظر یہ منصوبہ بنایا گیا ہے کہ اردو میں بھی، انگریزی میں بھی اور عربی میں بھی اسے جلد شائع کیا جائے۔اس کام کے لئے سلسلہ کے بعض علماء مقرر ہو چکے ہیں اور انہوں نے کام شروع کر دیا دیا۔316