تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 312

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک انفرادی طور پر بھی جو خطوط موصول ہوتے ہیں، ان میں بھی بعض ایسی پیاری اور درخشندہ مثالیں سامنے آتی ہیں کہ دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے کہ اس نے خود اپنے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کو ایسے عظیم الشان فدائی عطا فرمائے ہیں۔چنانچہ کل رات ہی میں نے لاہور کی ایک احمدی خاتون کا خط پڑھا، جس میں انہوں نے لکھا کہ میں ایک عام غریب سی عورت ہوں لیکن بہر حال میں نے اپنے شوق کے مطابق صد سالہ جوبلی کا چندہ لکھوا دیا۔بعد میں کچھ ایسے حالات پیش آتے رہے کہ میں اپنا چندہ وقت کے مطابق سال بہ سال ادانہ کر سکی، یہاں تک وہ ذمہ داری کا ایک پہاڑ بن کر سامنے آکھڑا ہوا۔انہوں نے لکھا کہ جتنا بھی چندہ تھا، مجھے محسوس ہوا کہ یہ بوجھ میری توفیق اور طاقت سے آگے نکل گیا ہے۔جب آپ نے توجہ دلائی تو کئی دن تو میں نے بڑے ہی کرب میں گزارے۔خدا کے حضور روئی ، گریہ وزاری کی کہ تو نے ہی اپنے فضل سے وعدے کی توفیق بخشی تھی ، اب تو ہی اسے پورا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما۔اسی دوران میری نظر اپنے زیور پر پڑی تو معا میرے دل میں خیال آیا کہ جو کچھ میرے بس میں ہے، وہ تو پیش کر دوں۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ سارے کا سارا زیور چھوٹا ہو یا بڑا، جماعت کے سامنے رکھ دیتی ہوں تا کہ اپنے خلوص کا یہ ثبوت تو پیش کروں کہ جو میرے بس میں تھا ، وہ میں نے کر دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ (وہ لکھتی ہیں کہ ) جب میں نے یہ فیصلہ کیا تو اس زیور سے مجھے ایسی نفرت ہوگئی کہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا ، یہ میرے دل پر بوجھ بن گیا ہے۔اس لئے خدا کے واسطے اس زیور کو میرے گھر سے دور کریں اور مجھے بتائیں کہ میں کس کو ادا کروں؟ تاکہ میرے دل پر سے یہ بوجھ اتر جائے۔کیسا عجیب خدا ہے، کتنے احسان کرنے والا خدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی پیاری جماعت عطا کی ہے کہ قرون اولیٰ کے زمانوں کی یاد کو زندہ کر دیا۔جب میں نے یہ خط پڑھا تو میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اے اللہ ! اس عورت کو زیور ایمان سے آراستہ فرما۔جیسا کہ اس نے خود خواہش ظاہر کی ہے۔اور سر سے پاؤں تک اس کے ظاہر و باطن کو اپنی رضا کے زیور سے مزین فرما دے۔پھر میں نے سوچاد نیا میں کتنی ہی عورتیں ہوں گی ، ( کروڑوں ہوں گی ) جن کو اللہ تعالیٰ نے زیور کی زیبائش سے محروم رکھا ہے۔ان کے سر، ان کے ہاتھ ، ان کے گلے اور ان کے پاؤں خالی پڑے ہیں۔لیکن ان میں سے کتنی ہوں گی، جنہوں نے رضائے باری تعالیٰ کی خاطر اپنے ہاتھوں کو، اپنے سرکو ، اپنے گلے کو اور اپنے پاؤں کو زیور سے عاری کیا ہو گا۔بہت کم ایسی مثالیں نظر آئیں گی۔اور اگر کوئی مثالیں ہوں گی تو وہ ساری کی ساری جماعت احمدیہ میں ملیں گی۔پہلے بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ ایسے نظارے پیش کر 312