تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 313

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1982ء چکی ہے، آج بھی پیش کر رہی ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پیش کرتی چلی جائے گی۔اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ جن خواتین کو ایسی عظیم الشان قربانیوں کی توفیق ملی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو کبھی خالی نہیں چھوڑا۔دنیا میں کتنی ہی عورتیں ہیں، کروڑوں ہوں گی ) جن کو خدا تعالیٰ نے زیور بھی عطا کئے ہیں۔مگر کون ہے، وہ زیوروں والی، جو خدا تعالیٰ کی نظر میں زینت کے لحاظ سے اس عورت کا مقابلہ کر سکے، جس کے ہاتھ اور پاؤں اور سر اور گردن محض خدا کی خاطر زیور سے خالی ہوئے ہیں؟ وہ سر سے پاؤں تک بھی ہیروں اور جواہرات سے بھر جائیں ، پھر بھی وہ اس عورت کی زینت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔خدا کا ایسا احسان ہے کہ اپنے ہاتھوں کو زیور سے خالی کرتے ہوئے اس عورت کو یہ احساس تک نہیں ہوا کہ میں اب قابل رحم ہوگئی ہوں، میں محروم ہورہی ہوں۔بلکہ معاخدا تعالیٰ نے اس کے دل کو ایک ایسے جذبے سے بھر دیا کہ وہ زیور سے نفرت کرنے لگی اور ایسی شدید نفرت کا اظہار ہے کہ گویا گھر میں زہر پڑا ہوا ہے۔اسے دور کریں ورنہ مجھے چین نصیب نہیں ہوگا۔یہ محض اور محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔پس جو خدا افکریں پیدا کرتا ہے یا فکر والے حساس دل عطا کرتا ہے، وہی فکروں کو دور کرنے کے سامان بھی مہیا فرما دیتا ہے۔اس ساری جدو جہد کا ماحصل کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ احمدی پہلے سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ فکریں اور فکروں کو دور کرنے کا نظام تو محض بہانہ ہو گیا۔فی تو الحقیقت ان کی کوئی بھی حیثیت نہ رہی۔کام سارے خدا ہی نے کرنے ہیں اور کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن اس جدو جہد کے دوران ہمارا ماحصل کیا ہے؟ وہ ہے، اپنے رب کی رضا۔ہم دن بدن پہلے سے زیادہ اپنے ا پیارے محبوب ، اپنے خالق و مالک کے قریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔پس کیسا عظیم الشان سودا ہے، جو ہم نے اپنے رب سے کیا ہے۔ہمارا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا اور ہر دفعہ ہم پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی دولت سے مالا مال ہوتے چلے جارہے ہیں۔( مطبوعه روزنامه الفضل 14 مارچ 1983ء) 313