تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 296

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک میں اصر کا لفظ دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم اصر کا لفظ اس بوجھ کے لیے استعمال کرتا ہے، جس کو قوموں نے ذمہ داریاں سمجھ کر اٹھایا۔مگر پھر ان سے بے پرواہی کی۔تب وہ ذمہ داریاں ان کے اوپر بیٹھ گئیں اور یہ ان کو بوجھ سمجھ کر اٹھائے پھرتے رہے۔حقیقت میں وہ بوجھ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت اور انعام تھا۔پس جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اصر کا لفظ قرآن کریم میں عموماً اس قسم کے بوجھوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جہاں شریعت کی ذمہ داری کو عرف عام میں بوجھ اور مصیبت اور بے گار کہا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صفت یہ بیان فرمائی:۔يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ (الاعراف: 158) کہ وہ ان کے اوپر سے بوجھ اتارتا ہے۔اگر اصر سے شریعت کی ذمہ داریاں مراد ہوں تو اس کا مطلب یہ بنے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ شریعت کی ذمہ داریوں سے آزاد کرانے آئے تھے۔حالانکہ آپ تو ذمہ داریاں ڈالنے والے تھے نہ کہ اتارنے والے۔پس مراد یہ تھی کہ پرانی شریعتوں نے جن چیزوں کو بوجھ سمجھ لیا یا شریعت سے زائد ذمہ داریاں قبول کرلیں ، جو واقعہ بوجھ تھیں، ان سب کو اتار پھینکا۔نفسیاتی لحاظ سے رجحان میں بھی تبدیلی پیدا کی اور وہ ذمہ داریاں ، جو خدا نے نہیں ڈالی تھیں، ان کو بھی دور فرما دیا۔چونکہ اردو میں کوئی دوسر الفظ نہیں ملتا، اس لئے میں مجبور ہوں کہ بوجھ کہوں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور اس کا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ جس جماعت کو قربانی کے لئے بلائے اور اس پر انحصار کر دے دنیا میں انقلابات لانے کا، اس پر بناء رکھ دے، ایک نئی زمین اور اک نئے آسمان کی تعمیر کی ، اس کے لیے اس سے بڑا انعام اور احسان اور کیا ہو سکتا ہے۔یعنی اس ساری دنیا میں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہی چنا ہے، انقلاب اور تبدیلی لانے کے لئے۔حالانکہ آج دنیا میں اربوں ارب روپیہ کمانے والے ایسے افراد موجود ہیں، جو جماعت احمدیہ کی کل دولت سے زیادہ اکیلے دولت رکھتے ہیں۔پھر بے شمار کمپنیوں میں سے ایسی Multi National کمپنیاں موجود ہیں، جو بعض بڑے بڑے ملکوں کی دولت سے زیادہ دولت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔پس جہاں تک دولتوں کے سمندر کا تعلق ہے، ہم اس کا ایک قطرہ بھی شمار ہونے کے اہل نہیں ہیں۔پھر جہاں تک دنیاوی طاقتوں اور سیاسی طاقتوں کا تعلق ہے، دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس لئے خدا کا ہمیں اس بات کے لئے چن لینا کہ ساری دنیا کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لو اور میں تمہارے ساتھ ہوں، اس سے بڑا احسان اور اس سے بڑا انعام اور کیا ہوسکتا 296