تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 297
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہے۔اس لئے یہ ہماری خوش قسمتی ہے اور جب تک خوش قسمتی سمجھ کر ہم ان ذمہ داریوں کوادا کرتے رہیں گے، ادائیگی کی بھی توفیق ملتی رہے گی۔اور اس کے بدلے میں ہم بے انتہا فضلوں کے بھی وارث بنائے جائیں گے۔لیکن اگر ہم نے اس انعام کو اصر سمجھ لیا، ایسا بوجھ ، جو چٹی کے طور پر پڑ جاتا ہے تو پھر ہماری قربانیاں بھی رائیگاں گئیں اور ان کے مقاصد بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔سوال یہ ہے کہ ایسی جماعت، جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں اخلاص کے لحاظ سے ایک بے مثل مقام رکھتی ہے اور جب وہ وعدہ کرتی ہے تو پورے اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اسے پورا کرتی ہے، وہ اتنے اہم چندے میں پیچھے کیوں رہ گئی؟ میں نے مختلف حیثیتوں میں بطور سائق بھی کام کیا ، بطور زعیم بھی کام کیا، بطور قائد بھی اور بطور صدر مجلس بھی۔اسی طرح وقف جدید میں بھی مجھے موقع ملا۔جماعت کے مالی نظام کے متعلق میرا سالہا سال کا تجربہ ہے کہ جماعت احمدیہ، بحیثیت جماعت کسی قربانی سے پیچھے رہنے والی جماعت نہیں ہے۔نظام جماعت کے جو کارندے ہیں، بعض دفعہ ان میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں جماعتیں چندوں میں پیچھے رہنا شروع ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ غفلت کی حالت میں بعض دفعہ واقعہ وہ اتنا پیچھے رہ جاتی ہیں کہ پھر مزید ذمہ داری کا اٹھانا، ان کے لئے بوجھ بن جاتا ہے، ذمہ داری نہیں رہتی۔یہ جو حالت ہے ، اس میں لازماً ایک حصہ اس نظام سے بھی تعلق رکھتا ہے، جس کا فرض تھا کہ ہر سال جماعت کو بیدار کرتا رہے اور جھنجھوڑ تار ہے اور یاد کرا تار ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اس کی ادائیگی میں پیچھے رہ رہے ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس منصوبے کے جو اعلیٰ مقاصد ہیں، ان کو جس طرح کھل کر بار بار جماعت کے سامنے پیش ہونا چاہئے تھا، اس کا کوئی موقع نہیں آیا۔یعنی حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں جو منصو بہ کھول کر پیش کیا تھا، اس کے سارے نقوش چھپ چکے ہیں لیکن وہ ایسی صورت میں چھپے ہیں کہ جس طرح اخبار الفضل جماعت کے سامنے پیش کرتا ہے یا دوسرے رسائل۔اس طرح وہ جماعت کے سامنے بار بار نہیں آسکے، جس طرح ان کا حق تھا۔وہ یا شوری کی کارروائی میں پڑے ہوئے ہیں یا منصوبہ بندی کمیشن کے سامنے جو ہدایات ہیں یا کمیشن کی سوچ و بچار کے جو نتائج ہیں، وہ ان کی فائلوں میں دبے پڑے ہیں۔تو جماعت کے سامنے کھل کر بار بار یہ بات پیش نہیں ہوئی کہ یہ یہ کام ہیں، جن پر اتنا خرچ آتا ہے اور تمہاری غفلت یا نیند نے اب تک یہ نقصان پہنچادیا ہے۔منصوبہ بندی کے سارے کو الف تو میں آپ کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔لیکن خلاصہ چند باتیں میں نے نوٹ کی ہیں، جو میں اس وقت آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ کتنے عظیم 297