تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 291

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء مشن کو مہیا کر دیں تو میں نے اندازہ کیا ہے کہ اس پر صرف چند لاکھ روپے خرچ آئے گا۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی مشن میں آئے تو اس کو یہ ٹیپس سنائی جاسکتی ہیں۔لٹریچر پر تو بہت زیادہ وقت لگے گا اور اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوسکتا۔پس تو ایک عارضی کام کرتی ہیں۔لیکن بہر حال جب تک لٹریچر شائع نہ ہو، ہم کس طرح صبر سے بیٹھ سکتے ہیں۔اگر تحریک جدید ٹپس کی تیاری کی طرف توجہ کرے تو اس کے پاس نہ تو تیار کرنے والے آدمی ہیں اور نہ ہی اس وقت سامان مہیا ہیں۔Duplicating مشین تک بھی نہیں ہے۔پھر وڈیوریکارڈ سے استفادہ کرنا چاہیے۔علاوہ ازیں جو نو جوان احمدی ہوں گے، ان کے تربیتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔تربیت کے لئے ان کو کیا مواد مہیا کرنا ہے؟ کس طرح نماز سکھانی ہے؟ کس طرح ان کی بد عادات ان سے ترک کروانی ہیں؟ تو تحریک جدید کو اس قسم کا لٹریچر بھی شائع کرنا ہوگا۔یہ ساری باتیں، جن کا میں نے مختصر اذکر کیا ہے، وہ ہیں ، جو سفر یورپ کے دوران مختلف مجالس شوری میں زیر بحث آچکی ہیں۔لیکن ساری باتیں، جو وہاں زیر بحث آئیں ، یہاں بیان نہیں ہوئیں ، نہ ہو سکتی ہیں۔کیونکہ وہ تو کئی دنوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔چند ایک کو بیان کر دیا گیا ہے۔ضرورتوں کے نہایت باریک پہلو سامنے آئے ہیں۔احمدی کو اللہ تعالیٰ نے ایسا روشن ذہن عطا فرمایا ہے کہ جب وہ دیانتداری کے ساتھ غور کرنا شروع کر دیتا ہے اور بہیجان پکڑتا ہے تو بڑے بڑے پیارے پوائنٹ اور سکتے اس کے ذہن میں بھی آتے ہیں۔ہر ملک سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت ہی عمدہ اور اعلیٰ تجاویز سامنے آئی ہیں۔ان سب کو عملی شکل میں ڈھالنا بہت بڑا کام ہے۔ان کو منضبط کر کے دنیا کے ہر مشن کی ذمہ داری کو معین کرنے کا کام بھی ابھی تک نہیں ہو سکا۔اس کے لئے بھی بڑی محنت کی ضرورت ہے۔تحریک جدید کے جن کارکنان کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے، وہ خدا کے فضل سے کر رہے ہیں۔ہمارا تو بالکل وہی حال ہے " کو میری لیلی تے کنوں کنوں دواں“۔یہ بچپن کی ایک پنجابی کھیل تھی، جو ہم کھیلا کرتے تھے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دین کے کام اتنے پھیل گئے ہیں اور تقاضے اتنے وسیع ہو گئے ہیں کہ ہم سارے مل کر ایک لیلای“ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔یہ کہاں کہاں جائے اور کس کس کام میں صرف ہو؟ انسان جب یہ سوچتا ہے تو پھر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خدا کے حضور جھکنے کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں پوری بے بسی کا عالم نظر آتا ہے۔میں یہ باتیں اس موقع پر اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ تحریک جدید کے جتنے بھی واقفین ہیں، ان کو اپنے طور پر بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ان میں کوئی سستی ہے تو اس کو ختم کر دیں۔اب ان کو اپنے دن رات 291