تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 292

خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پیش کرنے پڑیں گے۔یہ بھول جائیں کہ دفتر کا وقت کب ختم ہوتا ہے اور کب شروع ہوتا ہے؟ دنیا میں جن لوگوں نے بڑے بڑے کام کئے ہیں، ان کے وقت تو اور طرح شروع ہوا کرتے تھے اور اور طرح ختم ہوا کرتے تھے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دین میں ہم اتنے تقاضے بھی پورے نہ کریں، جتنے دنیا والے پورے کر چکے ہیں۔نیوٹن کا وقت اس طرح شروع ہوتا تھا کہ سورج نکلنے سے پہلے اپنے کام پر ہوتا تھا اور رات کے بارہ بجے کی گھنٹی وہ اپنے کام پر سنا کرتا تھا۔ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ کام کی لذت انسان کو پکڑتی ہے۔اور سب سے زیادہ لذت دین کے کام میں ہے۔کام نہیں کریں گے تو لذت نہیں پکڑے گی۔لیکن اگر آپ روح اور جذبہ کے ساتھ کام کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ آج کے بعد میں اور میرا خدا ہیں، تیسرا کوئی بیچ میں نہیں۔نہ ہمارا وکیل ، نہ وکیل اعلیٰ ، نہ صدر، نہ خلیفہ۔میں جانوں اور میرا خدا جانے۔میں نے اس کو حساب دینا ہے۔جو کچھ میرا ہے، وہ میں نے اس کے حضور پیش کر دینا ہے۔چاہے Recognise ہو یا نہ ہو۔چاہے کسی کو نظر آئے یا نہ آئے کہ کس طرح میں کام کرتا ہوں؟ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہ ہو۔لیکن میں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کو دینا ہے۔اگر موجودہ سارے واقفین اس نیت کے ساتھ اپنا کام شروع کر دیں اور اس نیت کو لے کر نئے واقفین آنے شروع ہو جا ئیں تو کچھ نہ کچھ تسکین کے سامان بھی ساتھ ساتھ شروع ہو جائیں گے۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فضل فرما رہا ہے اور فرماتا چلا جائے گا۔جتنا زیادہ آپ اس کی راہ میں ڈالیں گے، اتنازیادہ خدا کا فضل کئی گنا زیادہ ہو کر آپ کے اوپر ظاہر ہوگا۔یہ جماعت احمدیہ کا تجربہ ہے اس کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ملکوں کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے اور صرف فارایسٹ Far East یعنی مشرق بعید ہی کو دیکھیں، وہاں کا اکثر حصہ احمدیت سے خالی پڑا ہے۔وہاں کچھ بھی نہیں۔صرف ایک انڈونیشیا کے تقاضے ہی ہم پورے نہیں کر سکتے۔جب ہم نے اس پہلو سے غور کیا ، اس وقت مجالس شوری میں بھی بے شمار چیزیں سامنے آئی ہیں، وہ ساری ٹیپیں موجود ہیں۔اس وقت تحریک جدید دن رات کام کر رہی ہے کہ ان ہدایات کو الگ الگ کر کے مختلف مشنوں کو تک پہنچائے۔میں نے تو صرف چند باتیں پیش کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آخری بات یہی ہے کہ دعائیں کریں۔کیونکہ دعا کے بغیر ہم سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔اتنے کام پڑے ہوئے ہیں کہ سوائے اللہ کے فضل کے اور سوائے اس کے کہ خدا ہم پر رحم کرے، ہم سے یہ تقاضے پورے نہیں ہو سکتے“۔292 ( مطبوعه روزنامه الفضل 24 فروری 1983 ء ) |