تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 269

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء پر صلیبیں بلند کی گئیں اور صلیب کے پجاری خداوند یسوع کے حضور جھک گئے اور شکر ادا کیا کہ ایک عظیم الشان فتح خداوند یسوع مسیح نے ان کو عطا کی ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ اسلام کا سورج جب سپین میں ڈوبا تو عیسائیت کا چاند نمودار ہوا۔لیکن اس کی روشنی مستعار روشنی تھی۔اس کی روشنی اس نور سے حاصل کردہ تھی، جو مسلمانوں کا سورج پیچھے چھوڑ رہا تھا۔رفتہ رفتہ وہ چاند تاریک ہو گیا اور ایک ایسی گہری تاریکی میں ڈوب گیا، جس سے آج تک نہیں نکل سکا۔وہ پین، جو مسلمان سلطنتوں کے ایام میں یورپ کی عظمتوں کا گہوارہ تھا، تنزل کا ایسا شکار ہوا کہ اب یورپ میں سب سے زیادہ پسماندہ ملک بن چکا ہے۔پس ہم یقین رکھتے ہیں کہ چین کی تاریخ اسی سورج سے وابستہ ہے، جو وہاں سے ایک دفعہ غروب ہوا تھا، وہ سورج ضرور طلوع کرے گا اور سارے پین کو روشن کر دے گا۔اور سارے یورپ میں اس کی شعاعیں پھیلیں گی۔یہ خدا کی تقدیر ہے، اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔اور یقینا اور یقینا وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اسلام دنیا میں لازماً واحد مذہب ہوگا، جو تمام دنیا کے مذاہب پر غالب ہو کر رہے گا۔لیکن ان قربانیوں کے نتیجے میں، جو خدا کی راہ میں پیش کی جائیں گی۔ان آنسوؤں کے نتیجہ میں، جو خدا کی راہ میں بہائے جائیں گے۔اور اس خون کے نتیجہ میں کہ جب مانگا جاتا ہے تو قربانی کرنے والے بڑی بشاشت کے ساتھ خدا کی راہ میں پیش کرتے ہیں۔ان لئے ہوئے گھروں کے نتیجے میں، جو خدا کی راہ میں قربان کرنے پڑتے ہیں۔ہر ایک ملک، جہاں احمدیت پھیلی ہے، اس بات کا گواہ ہے کہ خدا کی راہ میں جائیداد میں لٹ گئیں ، گھر تباہ ہو گئے ، جانیں دینی پڑیں ، عورتوں تک پر ظلم ہوئے ، صرف اس لئے کہ وہ خدائے واحد کو مانتی ہیں اور خدا کے تازہ نشانات پر یقین رکھتی ہیں۔پس یہ وہ قربانیاں ہیں، جن کے نتیجہ میں مذہب میں تبدیلی آیا کرتی ہے اور خدا کی رحمت جوش میں آتی ہے۔یہ ایک ایسا ازلی ابدی قانون ہے، جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔جب سے دنیامذ ہب سے آشنا ہوئی ہے، یہی ہوتا چلا آیا ہے۔جن قوموں نے خدا کی راہ میں یقین کامل کے ساتھ قربانیاں پیش کیں، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوئیں۔وہ ہمیشہ فتح مند ہوئی ہیں اور فتح ونصرت کی کلیدان کو عطا کی گئی ہے۔پس ہم اس وجہ سے یقین رکھتے ہیں کہ ہم اسلام کو دنیا میں لازما غالب کریں گے۔کیونکہ اس راہ میں جب بھی ہم سے قربانیاں مانگی جاتی ہیں، ہم پیش کر دیتے ہیں اور کبھی پیچھے نہیں ہے۔ہمیشہ ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔اس لئے خدا کے فضل سے آگے سے آگے اور بھی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منازل کو قریب تر کر دے، جن کی تمنائیں لئے ہم جیتے ہیں۔اپنے فضل سے اسلام کی دشمنی کی اس عارضی رات کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے، جو اس وقت یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک پر طاری ہے“۔269