تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 268
خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم یہ کپڑے بھی وہ ہیں، جو جماعت نے دیئے ہیں۔یہ جوتی بھی وہی ہے، جو جماعت نے دی ہے۔یہ سرکا دوپٹہ بھی وہی ہے، جو جماعت نے دیا ہے۔اور یہ دو روپے بھی وہی ہیں، جو آج تک جماعت کے دیئے ہوئے پیسوں میں سے تھے۔میں نے آڑے وقت کے لئے بچا کر رکھے ہوئے تھے، یہ قبول فرمالیں۔حضرت خلیفة المسیح الثانی جن کے زمانے کی بات ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب سپین میں تبلیغ اسلام کے لئے اعلان کیا گیا تو بڑی بڑی قربانیاں میرے سامنے پیش ہوئیں۔مگر جس طرح اس عورت کی قربانی نے میرا دل ہلایا اور جوان دور و پیوں کی میری نظر میں قدر و قیمت ہے، وہ ہزاروں ، لاکھوں کی قربانیوں کی قیمت نہیں۔یہ خلوص کی قربانی تھی، جسے روپوں میں نہیں ناپا جاسکتا۔اس کو دل کے جذبات کے ساتھ ناپا جا سکتا ہے۔اور اس کی قدر و قیمت انسان نہیں کر سکتا بلکہ خدا کر سکتا ہے۔یہ سب کچھ تو فیق پانے کے بعد ملک میں ہمارا استقبال بالکل اور انداز کا ہوا۔جو باتیں سننے میں آئیں اور اخبارات نے جو تبصرے کئے ، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ انہیں سپین میں مسجد بنانے کی توفیق کیوں ملی ؟ یہ گویا خدا کے خلاف غصہ کا اظہار تھا۔کیونکہ تو فیق تو وہی عطا کرتا ہے۔کہا اور لکھا یہ گیا کہ خدا کے گھروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔اور اس لئے نہیں بنتا کہ ہم انہیں غیر مسلم قرار دے چکے ہیں۔ایسے لوگوں کو، جنہیں ہم غیر مسلم قرار دے چکے ہیں، آزاد دنیا کے کسی بھی خطہ میں اللہ تعالیٰ نے مسجد بنانے کی توفیق کیوں دی؟ ان کی یہ مسجد اور تمام دوسری مسجدیں، جو انہوں نے یورپ میں بنائی ہیں، گرادینی چاہئیں۔حیرت زدہ تھادل اور خون کے آنسور ورہا تھا کہ پین کی تاریخ سے بھی انہوں نے عبرت حاصل نہیں کی۔وہاں بھی تو یہی کچھ ہوا تھا۔اسلام کے نام پر اسلام کو برباد کیا گیا تھا۔ان مجاہدوں کو جو اپنے خون کی قربانیاں دینے کے لئے صف اول میں لڑنے کے لئے نکلتے تھے، غدار قرار دیا جاتا تھا۔تو میں جب بد قسمت ہو جاتی ہیں تو وہ اپنی دینی اور ملی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی بجائے انہیں اپنے ذاتی انا اور تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا کرتی ہیں۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر کامل یقین اور توکل رکھتا ہوں۔دنیا کی کوئی طاقت اب خدا کے اس فیصلہ کو نہیں بدل سکتی ، جو سپین کے بارہ میں ظاہر ہو چکا ہے۔ہم نے جو دعائیں کی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں خوشخبریاں دیں ہیں کہ دعائیں قبول کی گئیں۔ان واضح خوشخبریوں کے بعد اگر ہمارا انگ انگ بھی کاٹ کر پھینک دیا جائے ، تب بھی لازما سپین میں اسلام فتحیاب ہو گا اور کوئی اس تقدیر کو اب بدل نہیں سکے گا۔ایک عیسائی مستشرق لکھتا ہے: جب سپین کے آخری مسلمان بادشاہ نے ایک آہ بھری، اس وقت سپین کی مساجد کے میناروں سے ہلالی جھنڈے چاک چاک کر کے زمین پر پھینک دیئے گئے اور تمام میناروں 268