تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 270

خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء اس تقریر کے بعد حضور نے فرمایا:۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک " آج کی اس تقریب کا پروگرام کچھ لمبا ہو گیا ہے۔لیکن ایسے پروگراموں میں یہ توقع رکھی جاتی ہے، کچھ لمبے ہو جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔اس لئے میں نے منتظمین سے کہا تھا کہ خطاب کے بعد اگر کوئی دوست سوال کرنا چاہیں تو بے شک کر لیں۔چنانچہ ایک سوال یہ آیا کہ جب آپ باہر جا کر تبلیغ کرتے ہیں تو آپ کی تبلیغ میں اور دوسرے مسلمانوں کی تبلیغ میں فرق کیا ہے؟“ حضور نے اس سوال کا درج ذیل جواب دیا۔آپ نے فرمایا :۔اس ضمن میں یہ بات کھول دینی چاہتا ہوں کہ واپسی پر ہم پر جو اعتراضات ہوئے ، ان میں یہ تاثر دیا گیا کہ ہم مسلمان ہونے کا اعلان کر کے دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں۔دنیا غلطی سے یہ سمجھنے لگ جاتی ہے کہ ہم پاکستان کی نمائندگی میں آکر لوگوں کو تبلیغ کر رہے ہیں۔گویا یہ پاکستان کی عظمت ہے، جو اثر ڈالتی ہے۔اور ہمیں لوگ پذیرائی کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔یہ محض ایک ایسی غلط فہمی ہے، جس کا باہر کی دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں پایا جاتا۔اول تو دنیا اتنی سادہ اور بھولی نہیں ہے اور نہ ہی آج کل کے یورپین پریس کے نمائندے ایسے احمق اور بے وقوف یا نکھے ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہ ہو کہ وہ کس سے کیا پوچھنے جارہے ہیں؟ یہ تو نہیں کہ سوتے سوتے اٹھے اور آنکھیں ملتے ہوئے پریس کانفرنس میں پہنچ گئے۔یہ تو پہلے سے پوری تیاری کرتے ہیں۔ان کو وقت دیا جاتا ہے، بتایا جاتا ہے، ایک ہنڈ آوٹ جاری کیا جاتا ہے۔اس میں بتانا پڑتا ہے کہ ہم کون ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ اور پھر وہ پوری تیاری کر کے سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔ان کو جھوٹ کی عادت نہیں ہے۔اس لئے جب وہ دشمن کو زیر کرنا چاہیں تو چونکہ جھوٹ سے کام نہیں لیتے ، اس لئے اتنی ہی زیادہ ان کو محنت کرنی پڑتی ہے۔وہ سوالات کرتے وقت بہت ہوشیاری سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں سے بدتمیزی کئے بغیر ان کو زیر کر لیں۔اور قوم کے سامنے ان کا ایک ایسا حلیہ پیش کریں ، جو قوم کے لئے کسی طرح باعث دلچپسی نہ بنے یا دلربا نہ ہو۔چنانچہ اس معاملہ میں یعنی مسلم، غیر مسلم کے سلسلہ میں کوئی ایک پر یس کا نفرنس بھی ایسی نہیں تھی ، جہاں سب سے پہلے یہ سوال نہ کیا گیا ہو اور اس میں بڑی حکمت ان کے مد نظر تھی ، وہ قوم کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ یہ جو تمہیں مسلمان بنانے کے لئے نکلے ہیں، ان کے تو اپنے گھر لئے ہوئے ہیں۔ان کا تو کوئی ہے ہی نہیں۔ان کی پشت پناہی پر کون ہے، آخر جو تمہیں اسلام کا پیغام دینے آگئے ہیں؟ چنانچہ سب سے پہلے وہ یہ سوال کرتے تھے کہ جناب آپ تشریف تو لائے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ کی خاطر 270