تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 260
خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وقت گزر گیا اور کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا تو فرڈی ننڈ نے پیغام بھیجا کہ اب میں آرہا ہوں۔اس وقت ابو عبداللہ کے سارے جرنیلوں نے یہ مشورہ دیا کہ اب سوائے اس کے کہ ہم ہتھیار ڈال کر اپنی جانیں بچائیں اور کوئی چارہ نہیں۔صرف ایک موسیٰ تھا، جس نے بہت پر جوش تقریر کی اور کہا کہ ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہم اپنی زمین کے ایک ایک انچ کے لئے لڑیں گے۔اس نے فرڈی ننڈ کو پیغام بھجوایا کہ اگر تمہیں ہمارے ہتھیار چاہیں تو آؤزور بازو کے ساتھ ان ہتھیاروں کو لے لو۔چنانچہ فرڈمنڈ چالیس ہزار فوج لے کر غرناطہ پر حملہ آور ہوا۔موسیٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس فوج پر شب خون مارتا رہا۔یہاں تک کہ فرڈی منڈ کی فوج دل چھوڑنے لگی اور قریب تھا کہ اس کا پانسہ پلٹ جاتا مگر فرڈی ننڈ کے جرنلوں نے اس کو یہ مشورہ دیا کہ اب زیادہ دیر تک محاصرہ کی صورت میں انتظار درست نہیں ہے۔اس کا اب ایک ہی علاج ہے کہ اس سارے علاقہ کے اناج کے ذخائر اور پھلوں کو کلیتہ تباہ کر دیا جائے اور باہر بہٹ کر شہر بسایا جائے اور پھر مسلمانوں پر بھی شب خون مارے جائیں۔چنانچہ یہ ترکیب کار گر ثابت ہوئی۔غرناطہ کے ارد گرد کا سارا زرخیز علاقہ کلیتہ تباہ کر دیا گیا۔غرناطہ کے قریب انہوں نے ایک نیا شہر آباد کیا، جو آج تک وہاں موجود ہے۔پھر جب م فاقوں سے مجبور ہوئے تو ابو عبد اللہ نے پھر مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ تمام جرنیلوں نے مشورہ کیا کہ اب ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔ایک موسیٰ تھا، جس نے اب بھی ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔اس نے ہتھیار سجائے ، زرہ بکتر پہنی اور گھوڑے پر سوار ہو کر ان کو الوداعی سلام کرتا ہوا عیسائی فوج پر اکیلا حملہ آور ہوا۔عیسائی مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس کا حملہ اتنا شدید تھا کہ عیسائی فوج کی کئی ٹولیاں اس نے بلاک کیں۔بالآخر وہ گھوڑے سے گر پڑا اسے جان بخشی کی پیش گئی (انگریزی میں اسے quarter (کوارٹر) دینا کہتے ہیں) مگر اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور لڑتے ہوئے گھٹنوں کے بل سرکتا ایک دریا کے کنارے پہنچ گیا اور بالآخر اس خیال سے دریا میں چھلانگ لگادی کہ شاید وہ تیر کر اس کو پار کر جائے گا۔لیکن اس نے بہت بھاری ذرہ بکتر پہنی ہوئی تھی، جس کے باعث وہ اسی دریا میں ڈوب گیا۔تب وہ قلعہ خالی کیا گیا، جس کو الحمراء کہتے ہیں۔مسلمان ابو عبد اللہ اپنی فوج کے بچے کھچے آدمیوں اور اپنی ماں کو لے کر پہاڑی علاقوں کی طرف روانہ ہوا، جن کے دوسری طرف وہ سمندر تھا، جہاں سے انہوں نے کشتیاں پکڑنی تھیں۔ایک پہاڑی پر پہنچ کر اس نے اپنے گھوڑے کو ٹھہرایا اور مڑ کر دیکھا، حسرت سے اس سارے مسلمان علاقے پر نظر ڈالی اور بے اختیار رونے لگا۔تب اس کی ماں نے کہا کہ او بد بخت ! اب عورتوں کی طرح ٹسوے بہاؤ اس کھوئی ہوئی عظمت پر، جس کی مردوں کی طرح تم حفاظت نہیں کر سکے۔260