تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 259

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء ساری جائیداد میں ضبط کر لی گئیں، وہ تنگے بدن، ننگے پاؤں شہروں میں گھمائے گئے۔ہر قسم کی ذلت ان پر تھوپی گئی۔جس کسی نے بھی غیرت کا اظہار کیا، اسے تہ تیغ کر دیا گیا۔خود اس مسلمان جرنیل کو ایک (ڈنجن ) قلعہ کے تہہ خانہ میں پھینک دیا گیا۔جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں کہ پھر اس کے ساتھ کیا بیتی؟ ملاگا کی فتح کے بعد فرڈی منڈ نے ابو عبد اللہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ جو معاہدہ میرا تمہارے ساتھ ہوا تھا، اس کی ساری شرطیں میں نے پوری کر دیں ہیں۔اب ایک شرط تم نے بھی پوری کرنی ہے اور وہ شرط اس وقت سامنے آئی۔اور وہ یہ تھی کہ جب عبداللہ کے سارے دشمنوں کو فرڈی ننڈ شکست دے دے گا تو پھر غرناطہ ابو عبد اللہ خود اس کے حوالے کر دے گا۔اس معاہدہ میں صرف ایک چھوٹی سی گھنڈی تھی ، جوابو عبد اللہ نے اپنے لئے رکھی ہوئی تھی۔اور وہ یہ تھی کہ ایسا کرنے میں ایک معین وقت لگے گا۔وہ سمجھتا تھا کہ اس وقت کے اندرا گر مراکش اور مصر کی حکومتوں نے مسلمانوں کو کمک بھیج دی تو پھر وہ اس معاہدے کو پورا کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔اگر کسی نے کمک نہ بھیجی تو پھر وہ اپنا قلعہ لازماً عیساؤں کے سپر د کر رہے گا۔ابوعبداللہ کو یہ وہم تھا۔کہ اتنی کھلی غداری کے باوجود مسلمان اس کی مدد کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔مگر اس کا یہ و ہم پورا نہ ہوا۔اس نے بار بار پیغام بھیجے لیکن مصر یا مراکش سے ایک بھی سپاہی مدد کو نہ پہنچا۔ادھر اس کے چا الرنل کو بالآخر جب عیسائیوں نے پکڑا تو اس کی ذاتی شرافت اور عظمت کے نتیجہ میں اس سے نسبتاً بہتر سلوک کیا گیا۔وہ ایک ہی مسلمان ہے، جس کے ساتھ عیسائیوں نے کچھ حسن سلوک کیا اور اس کو اجازت دی کہ وہ اپنے علاقہ میں بادشاہ کے طور پر اپنی سلطنت کو جاری رکھے۔لیکن وہ اتنا با غیرت تھا کہ وہ ان حالات میں وہاں ٹھہر نا برداشت نہ کر سکا اور اس خیال سے کہ اگر وہ خود مراکش جائے اور وہاں ان دردناک حالات کو بیان کرے تو ممکن ہے، مراکش کے مسلمان غیرت میں آکر دوبارہ سپین پر حملہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں۔وہ ساری جائیداد چھوڑ کر مراکش چلا گیا۔وہاں فیض میں اس وقت کے مسلمان بادشاہ نے اس کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ اس کی دونوں آنکھیں نکلوادیں اور اسے فقیر بنا کر گلیوں میں چھوڑ دیا۔اس نے ایک چغہ پہنا اور اس پر یہ عبارت لکھوائی۔ر مسلمان اندلس کا سب سے آخری بادشاہ ، جو اس بد قسمتی کا شکار ہوا۔اس کے بعد وہ ساری عمر ایک فقیر کی طرح مراکش کی گلیوں میں پھرتا رہا۔جہاں تک ابو عبد اللہ کا تعلق ہے، جب ایک خاصی مدت گزرگئی اور کوئی بھی اس کی مددکو نہ آیا۔اس کا یہی ایک چا تھا، جو اس کے کام آسکتا تھا۔اس کے ساتھ بھی اس نے ساری عمر ظلم کا سلوک روا رکھا اور غداری کرتا رہا۔اور اس کے ساتھ مراکش میں جو سلوک ہوا، وہ میں نے پہلے بیان کر دیا ہے۔چنانچہ جب 259