تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 261

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء چنانچہ یہ واقعات تاریخ کا ایک حصہ بن گئے۔25 نومبر 1491ء کا یہ واقعہ ہے۔(The Moors in Spain By Stanlay Lane Pool) یعنی آج کے دن جب کہ مسلمانوں نے الحمراء کی چابیاں عیسائیوں کے حوالے کرنے کے معاہدہ پر دستخط کیے۔اور پھر عملاً سپین سے ان کی صف پیسٹ دی گئی۔یہ ایک اتفاق ہے کہ آج ہی کے دن سپین کے ذکر کے لئے یہ تقریب منعقد کی گئی۔نہ اس وقت میرے ذہن میں یہ بات تھی، نہ تاریخ مقرر کرنے والوں کے ذہن میں تھی۔لیکن یہ ایک امر واقعہ ہے۔اب ایک تو یہ پس منظر ہے چین کا، جس کا آپ کو علم ہونا چاہیئے۔ایک دوسرا پس منظر کہ 1944ء میں امام جماعت احمدیہ نے سب سے پہلے ایک خطبہ جمعہ میں ان سارے واقعات کا نہایت درد انگیز رنگ میں ذکر کیا اور اپنے متبعین کو ایک غیر معمولی جوش دلایا اور کہا کہ دیکھو تمہیں موسیٰ کے خون کا ایک ایک قطرہ اپنی طرف بلا رہا ہے۔تمہیں اس باغیرت ماں کی آہیں سنائی دینی چاہئیں، جس نے پہاڑ کی چوٹی پر اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اوبے غیرت ! ردو اور ٹسوے بہاؤ۔کیونکہ جس عظمت کو تم مردوں کی طرح اپنے قبضہ میں نہیں رکھ سکے ، اسے تم نے عورتوں کی طرح کھو دیا ہے۔اب تمہاری قسمت میں رونے کے سوا کچھ نہیں۔اس ماں کی آہوں کو سنو اور سرزمین سپین کو دوبارہ اسلام کی خاطر فتح کرنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاؤ۔(67۔The Moors In Spain P میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ، اس پہاڑی کا نام اسپینش میں Elul Sespiro Delmoro یعنی مسلمان بادشاہ کی آخری آہ دیا گیا ہے۔) جب جماعت کے سامنے یہ تحریک رکھی گئی تو یہ وہ دن تھے، جب سپین کی حکومت اتنی منتشہد تھی اور رومن کیتھو سلزم (Roman Catholicism) کا اتنا مضبوط غلبہ تھا کہ دوسرے عیسائی فرقوں کو بھی وہاں تبلیغ کی اجازت نہیں تھی۔ایسی صورت میں اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ سپین کی حکومت ایک مسلمان مبلغ کو ویزہ دے اور اسے اسلام کی تبلیغ کی اجازت دے دے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: مجھے ایسے مبلغ کی ضرورت نہیں، جس کو ہم باقاعدہ خرچ بھی دیں اور جس کی نگہداشت کریں اور وہاں جا کر با قاعدہ ایک قانون کے مطابق وہ اپنی زندگی گزارتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کر سکے۔مجھے تو دیوانے چاہئیں۔پین کے لئے مجھے ایسا آدمی چاہئے ، جس کو ہم ایک پائی بھی نہیں دیں گے اور نہ دے سکتے ہیں، جس کی حفاظت کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔چنانچہ جب یہ اعلان ہوا تو ہر واقف زندگی کی اس وقت یہ تمنا تھی کہ میں ہی اس کام کے لئے چنا جاؤں۔اس خطبہ کے بعد اور بھی بہت سے ملکوں کے لئے واقفین 261