تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 250
خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کہ مدد بھی ہم تجھ سے مانگتے ہیں۔دراصل ایاک نعبد کا دعوی ایک بہت بڑا دعوی ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں، تیری ہی عبادت کریں گے، تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے تو یہ اتنا بڑا دعوی ہے کہ گویا انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔یہ اتنا بڑا دعوی ہے کہ اس سے ایک عارف باللہ کے دل پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے، میں اس کو کیسے نباہوں گا؟ میں چھوٹے چھوٹے جو وعدے کر لیتا ہوں ، ان کو تو نباہ نہیں سکتا، اپنے رب سے، اپنے خالق سے اتنا بڑا عہد کہ میں تیرا غلام بن رہا ہوں، کس طرح پورا کروں گا ؟ کیونکہ عبد کا مطلب صرف نماز پڑھنے والا یعنی عبادت کرنے والا نہیں۔عبد کا مطلب ہے کہ انسان اپنے سارے وجود کو خدا کے حضور پیش کرے۔پس ایاک نعبد کا یہ معنی ہے کہ انسان یہ دعا کرے کہ اے میرے رب ! آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں کلیۂ تیرا ہو گیا۔میرا اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔نہ میرا جسم باقی رہا، نہ میری جان۔نہ میرادل باقی رہا، نہ میرا دماغ۔میری سب دولتیں تیرے حضور پیش ہیں۔میرے مکان ، میرے کپڑے ہر چیز تیری ہوگئی۔میرے بچے ، میرے بھائی ، میرے بیٹے غرض جو کچھ بھی تھا، میں نے تیرے حضور پیش کر دیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں یہ توجہ دلاتے ہیں کہ جب انسان یہ دعوی کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ہر سوچنے والا انسان اس خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔یہاں تک کہ اگر خدا اسے توفیق نہ دے تو اس میں عزم کرنے کی بھی طاقت پیدا بھی نہیں ہوتی۔اس لیے وہ دعا کرتا ہے، اے خدا! اگر تو تو فیق عطا فرمائے تو میری عبادت قائم رہے گی۔اگر تیری طرف سے توفیق نصیب نہیں ہوگی تو میں اپنی خواہش کے باوجود تیرا بندہ نہیں بن سکوں گا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ دنیا کے تمام اسباب کو حرکت دینے کی یہی چابی ہے۔دعاؤں کے ذریعہ اسباب حرکت میں آتے ہیں۔اور دعاؤں کے ذریعہ انسان کو ہر چیز کی توفیق عطا ہوتی ہے۔پس یہ کام جس کو میں نے دوسرے نمبر پر رکھا ہے، بظاہر بہت چھوٹا ہے اور گھر بیٹھے ہوسکتا ہے۔دن کو بھی ہوسکتا ہے، رات کو بھی ہوسکتا ہے۔بستر پر لیٹے لیٹے بھی ہو سکتا ہے۔لیکن اتنا عظیم کام ہے اور جماعتی زندگی میں اتنا اہم کام ہے کہ ہمارے دوسرے کام اس پر منحصر ہیں۔پس دعاؤں کی طرف توجہ دیں اور بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں۔اور دعائیں کرنا چھوڑیں نہیں۔آپ کو جب بھی خدا توفیق عطا فرمائے ، جب بھی دلوں میں حرکت پیدا ہو، اس وقت دعا کریں کہ اے اللہ ! ہم نے تیری خاطر، محض تیری رضا کی خاطر سپین میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔حقیقت میں وہ علاقہ روحانیت کے لحاظ سے ایک ویرانہ کی 250