تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 249
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء گزاریں گے۔اس سے مجھے خیال آیا کہ یہاں بھی خدا تعالیٰ نے جن دوستوں کو توفیق عطا فرمائی ہے، ان تک بھی اس تحریک کے فیض کو عام کر دینا چاہیے۔اس وقت میرے سامنے احمدی خواتین بیٹھی ہیں، ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ ایسی احمدی خواتین، جن کے خاوند یا بیٹے یا بھائی توفیق رکھتے ہوں، ان کو تیار کریں، ان کے دلوں میں ولولے پیدا کریں۔اگر وہ تیار ہو جائیں تو وہ خود بھی ساتھ جائیں۔کیونکہ سپین میں صرف مرد کافی نہیں ہوں گے۔وہاں کا معاشرہ، ایک ایسا معاشرہ ہے، جہاں عورت مرد کے پہلو بہ پہلو چلتی ہے۔اگر آپ بیک وقت مردوں کے ساتھ عورتوں کے دل بھی نہ جیتیں تو ایک غیر متوازن سوسائٹی قائم ہو جاتی ہے، جس کے بعد میں بڑے نقصانات پہنچتے ہیں۔چنانچہ وہ غیر متوازن سوسائٹی، جس میں مرد زیادہ احمدی ہو رہے ہوں اور عورتیں پیچھے رہ رہی ہوں، اس کے بعض دفعہ اتنے بداثرات ظاہر ہوتے ہیں کہ اگلی نسلیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔چنانچہ میرے ذہن میں ایسی مثالیں ہیں، انگلستان میں بھی اور دیگر ممالک میں بھی، جہاں مردوں کو تبلیغ کی گئی اور عورتیں محروم رہیں۔اس کے نتیجہ میں ہماری ساری عمر کی کمائی انگلی نسل کی صورت میں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔ان کے والد بھی بڑی حسرت سے دیکھتے رہے لیکن ان کی کوئی پیش نہیں گئی۔اس لیے ضرورت ہے کہ عورتیں بھی اس تحریک میں بھر پور حصہ لیں۔عورتیں عورتوں میں تبلیغ کریں، ان کے ساتھ تعلقات بڑھائیں، اپنے نیک اثرات ان پر مرتب کریں۔پس میں چاہتا ہوں کہ پوری کی پوری قوم ایک نئے ولولے کے ساتھ اس نیک کام میں مصروف ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس تحریک کا دوسرا پہلودعا سے تعلق رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دعا میں بڑی طاقت رکھی ہے۔دعا میں غیر معمولی تبدیلی کا مادہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے ہمارے سامنے دعا کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل مسب الاسباب بھی دعا ہی ہے۔انسان بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اسباب کی دنیا الگ ہے اور دعا کی دنیا الگ ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے حکمت کا یہ نکتہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اسباب کی توفیق بھی میسر نہیں آتی، جب تک دعا کی توفیق میسر نہ آئے۔چنانچہ سورۃ فاتحہ ہی سے استنباط کرتے ہوئے آپ نے ہماری توجہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا کی طرف مبذول کروائی۔آپ نے فرمایا، ایاک نعبد (اے خدا! ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔) کی دعا مکمل نہیں ہوتی ، جب تک ایاک نستعین کی پکار اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائے۔249