تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 251
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء طرح ہے۔مکہ کے علاقہ کی اس وقت حالت جب ابراہیم نے وہاں خدا کے ایک گھر کی بنیاد رکھی تھی محض ایک بے آب و گیاہ ویرانہ کی تھی۔جس طرح وہ دنیا کے لحاظ سے بنجر اور بے آب و گیاہ سر زمین نظر آتی تھی، اسی طرح سپین کا علاقہ آج روحانی لحاظ سے بنجر دکھائی دیتا ہے۔تو جس طرح حضرت ابراہیم نے کامل تو کل کے ساتھ بڑی گریہ وزاری کے ساتھ اور بڑی انکساری اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا کی کہ اے خدا! اس علاقہ کو ایک امن والے شہر میں تبدیل فرما دے، ہمیں اس طرح دعاؤں کی ضرورت ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی دعائیں نا مقبول نہیں ہوا کرتی۔حضرت ابراہیم کو کچھ اسباب بھی میسر نہ تھے۔ایک بیوی تھی اور ایک بچہ انہوں نے یہ دونوں خدا کے حضور پیش کر دیئے۔کون کہ سکتا ہے، کون سی عقل اس بات کو تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں انسان اپنی بیوی اور چھوٹا بچہ چھوڑ کر چلا جائے اور کہے کہ میں نے اس سارے علاقہ کی فتح کے سامان کر دیئے ہیں؟ جہاں پینے کو پانی نہ ہو، بچہ پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑ رہا ہو اور ماں بے قرار ہو کر پہاڑیوں کے درمیان دوڑے اور کہے اے خدا! میں کیا کروں؟ میرا کچھ بس نہیں چلتا، میرا بچہ میری آنکھوں کے سامنے پیاس سے مر رہا ہے۔یہی اسباب مہیا تھے ناں؟ اس سے زیادہ تو کچھ نہ تھے۔پھر وہ اسباب کہاں سے آئے ، جنہوں نے اس علاقہ کی کایا پلٹ دی ؟ یہ اسی دعا کا کرشمہ تھا، جو خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم کے دل سے بلند ہو رہی تھی۔اسی دعا کی قبولیت نے سارے اسباب مہیا کر دے۔اسی نے قافلوں کے رخ اس طرف پھیر دیئے ، اسی نے ایڑیوں کے نیچے سے پانی بہادیا اور اسی نے وہاں بلد امین پیدا کر دیا۔جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔پس دعا عظیم الشان طاقت کا ایک سرچشمہ ہے۔اس سے غافل رہ کر انسان بسا اوقات بہت سی نیکیوں اور بہت سے پھلوں سے محروم رہ جاتا ہے۔پس آپ محض رسمی دعاؤں پر اکتفا نہ کریں۔ایسی دعا کریں، جو دل کی گہرائیوں سے نکلے۔اور جب نکلے تو زندگی پر ایک لرزہ طاری کر دے۔اور یہ محسوس ہو جائے کہ ہاں یہ مقبول دعا دل سے اٹھ رہی ہے۔اسی لیے سپین میں جب مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح تبدیلی کریں گے؟ میں نے کہا، میرے پاس آنسوں کے سوا کچھ نہیں۔تمہاری نظر میں ان کی قیمت کچھ نہیں ہوگی مگر ہمارے خالق و مالک کی نظر میں یہ آنسو ہیرے، جواہرات اور موتیوں سے بھی بہت زیادہ قیمتی ہیں۔میں نے کہا، ہم نے یہ پروگرام بنایا ہے کہ ہم گھر گھر پہنچیں گے اور ان کے دروازے کھٹکھٹائیں گے اور خدا سے دعا کریں گے کہ یہ 251