تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 228
خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد ششم انصار سائیکل سوار آئے تھے۔اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔کیونکہ یہی سمجھا جانے لگا کہ خدام کا کام ہے کہ وہ سائیکلوں پر آئیں، انصار نہیں آسکتے۔پچھلے سال یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔گزشتہ سال 82 انصار سائیکلوں پر تشریف لائے تھے۔اس کے مقابل پر امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 197 تشریف لائے ہیں۔ایک سائیکل سوار ممبر انصاراللہ، جنہوں نے انعام لیا ہے، ان کی عمر ما شاء اللہ اسی (80) سال ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ انعام لینے کے لئے وہ کس طرح دو سیڑھیاں چڑھے تھے۔ان کی ہمت کا اندازہ کریں کہ وہ ما شاء اللہ سارا رستہ (117 چھور ضلع شیخوپورہ تار بوہ۔ناقل ) سائیکل پر طے کر کے آئے۔صرف ربوہ کی چڑھائی پر آکر رہ گئے تھے۔دریائے چناب کے جو دو پل ہیں، وہاں ان کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ اب میں سائیکل پر تو جا نہیں سکتا، پیدل جاؤں یا کسی اور ذریعہ سے پہنچوں۔پھر ان کے ساتھیوں نے مدد کی۔انہوں نے کہا: آپ سائیکل پر بیٹھے رہیں، ہم آپ کو دھکا دے کے لے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کو دھکا دیا گیا لیکن سائیکل سے نہیں اتر نے دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی ہمت ہے۔کیونکہ جو چڑھائی نہیں چڑھ سکتا، اس کے لئے پیدل چڑھنا بھی مشکل تھا۔اس لئے اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں تھا کہ وہ سائیکل پر بیٹھے رہیں اور دھکا دے کر ان کو آگے کیا جائے۔دوسرے صاحب جو سائیکل پر تشریف لائے تھے، انہوں نے تو بہت ہمت کی 75 سال کی عمر ہے اور تھر پارکر سے آئے ہیں۔اور صرف ایک دن میں انہوں نے 110 میل سائیکل چلایا۔ان کے ساتھی جو نسبتا جوان ہیں، (غالباً 42 سال کی عمر ہوگی ) انہوں نے کل مسجد مبارک میں نماز مغرب کے بعد یہ واقعہ سنایا کہ جب ہم چلنے لگے تو میر ا صرف یہی ایک ساتھی تھا اور تھا کوئی نہیں، مجھے بڑی فکر پیدا ہوئی، میں نے صاف جواب دے دیا کہ میں ان کے ساتھ نہیں جاسکتا۔پھر میں نے مزید تسلی کی خاطر ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا: بابا جی! کدی گوڈے وچ درد ہوئی اے؟ وہ کہتے ہیں: انہوں نے جواب دیا ، کری ہٹی نہیں۔ہوئی تے ہوئی ہٹی کدی نہیں“۔یہ تھے دوسائیکل سوار جور بوہ آنے کے لئے تیار بیٹھے تھے اور کوئی تیسر ا شامل نہیں ہورہا تھا۔اس پر قائد صاحب ضلع نے اس نوجوان نو مسلم کو جو پچھلے سال بھی آئے تھے اور اس سال خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بھی سائیکل پر تشریف لائے ، کھڑے پاؤں کہا کہ آپ تیار ہو جائیں۔انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، میں حاضر ہوں۔تب ان کو ہمت ہوئی، ان کو ساتھ لانے کی۔یہاں تو ان کو بابا جی کے اوپر باتیں کرنے کا موقع ملا۔کہتے ہیں، سوسنار دی تے اک لوہار دی۔یعنی سوسنار کی ، ایک لوہار کی۔ان باتوں کے بعد میں نے باباجی سے پوچھا کہ آپ بتائیں آپ کو رستے میں گھٹنے کی درد نے پھر تکلیف نہیں دی ؟ انہوں نے کہا: سارے رستے ہوئی ہی نہیں۔اس کو ہوتی رہی ہے اور اتنی ہوئی ہے کہ اس نے درد کے لئے تیل کی ایک بوتل ساتھ لی اور وہ کہیں جھنگ میں بھول گیا تو سارا رستہ رونا آیا کہ 228