تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 225

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 06 نومبر 1982ء کی گفتگو سے ایسا معلوم ہوتا تھا۔تعداد کے اوپر Criticism کرتے۔ہر بات، جو ہم بیان کرتے تھے، اس کو بڑی تنقیدی نظر سے دیکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ رنگ بدل جاتا، دیکھتے دیکھتے ان کی طبیعتیں نرم پڑ جاتی تھیں اور ملائم ہو جاتی تھیں، آنکھوں میں ادب آجا تا تھا اور محبت پیدا ہو جاتی تھی۔دوخر ہے جو بار ہا استعمال کئے گئے ، دونوں نے ہی ہمیشہ الٹا اثر دکھایا، ان کے نقطہ نگاہ سے۔ایک تو همینی صاحب کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا تھا۔جب وہ دیکھتے تھے کہ اسلام کی رو سے ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور اثر پیدا ہو رہا ہے تو باقاعدہ ایک مجادلے یا مناظرے کی شکل بن جاتی تھی، پریس کا نفرنس تو محض نام تھا۔پھر وہ ثمینی صاحب تک پہنچ جاتے تھے۔اس کا اللہ تعالیٰ نے جو جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی ، وہ میں انشاء اللہ کل ذکر کروں گا۔محض اس غرض سے کہ تا آپ کو معلوم ہو کہ بعض باتوں کا جواب کس طرح دینا چاہیے؟ کیونکہ وہ جواب میں نے موثر دیکھا۔اور یورپ کے ہر ملک میں، ہر مجلس میں مؤثر دیکھا۔ایک بھی ایسی جگہ نہیں، جہاں اس جواب کو سننے کے بعد بے اطمینانی کا اظہار ہوا ہو۔بلکہ ہمیشہ شرمندگی میں سر جھکتے دیکھے ہیں۔دوسرے عورت کے مقام کے متعلق پوچھا جاتا۔اور یہ سوال ہمیشہ عورتوں کی طرف سے ہوتا تھا۔عورتیں پریس کی نمائندہ بہت کثرت سے ہوتی ہیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان تھی کہ پریس کی مجلس کے دوران جوابات کے بعد وہ نمائندگان بلند آواز سے اقرار کرنے لگتی تھیں کہ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ اسلام عورت کو زیادہ بلند مقام دیتا ہے۔اور پریس کی طرف سے اتنا کھلم کھلا اقرار حیرت میں ڈال دیتا تھا۔پریس کانفرنسیں ہی نہیں ہوئیں بلکہ بہت سی ایسی مجالس بھی منعقد ہوئیں، جن میں معززین کو بلایا جاتا تھا، بے تکلفی سے باتیں ہوتی تھیں اور میں محسوس کرتا تھا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ایک پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔اور یورپ میں ایک خاص ہوا چلی ہے، جو دلیل کو سننے کے لئے ان کو آمادہ کر رہی ہے اور ان کے اندر خطرات کے احساس کو بیدار کر رہی ہے۔اسی لئے طبیعت میں بڑی فکر پیدا ہوتی تھی کہ ہماری کوششیں اس کے مقابل پر کچھ بھی نہیں ہیں۔ہمیں لازماً ان کوششوں کو تیز کرنا پڑے گا ، لازماً واقفین کی تعداد بڑھانی پڑے گی۔اور بکثرت اپنے بوڑھوں ، بچوں ، جوانوں اور عورتوں کو اس میدان میں جھونکنا پڑے گا۔کیونکہ جب مطالبے بڑھ جائیں تو ان کو بہر حال پورا کرنا پڑے گا۔اور ہمیں پورا کرنا پڑے گا۔ہمارے سوا ہے ہی کوئی نہیں۔ہمیں چنا ہے اللہ تعالیٰ نے ان مطالبوں کو پورا کرنے کے لئے۔اس احساس کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ توفیق عطافرماتا تھا۔کئی قسم کی سکیمیں ذہن میں داخل فرماتا تھا، ان کو بیان کرنے کی توفیق بخشا تھا اور ان کو قبول کرنے کے لئے جماعت میں ایک رو چلا دیتا تھا۔225