تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 224

خطاب فرمودہ 06 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الهی تحریک جلد ششم سپاسنامے میں جس سفر کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا مرکزی نقطہ وہی ہے، جو پہلے بیان کر دیا گیا کہ جو بھی اس سفر میں میسر آیا محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میسر آیا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میں کیا اور میری بساط کیا۔یہ وہی یورپ ہے، جہاں کبھی خیمہ لے کر کبھی Haver Sack پیچھے کھ کر میں پھرا کرتا تھا اور انہیں گلیوں سے گزرتا تھا نیکن کسی کو پروا نہیں تھی کہ کون آیا اور کون گزرگیا ؟ تبلیغی گفتگوکا بھی موقع ملتا تھا تو زیادہ سے زیادہ ایک، دو، تین یا چار کو متوجہ کر سکتا تھا۔یہ وہی وجود ہے، اس میں کوئی فرق نہیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کے ساتھ مجھے اس سفر کی توفیق عطا فرمائی تو بالکل کایا پلٹ گئی۔اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی اور ہمت عطا کی۔لوگ سمجھتے تھے کہ میں تھک گیا ہوں گا لیکن مجھے تو پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ تھکاوٹ کیا چیز ہے؟ حالانکہ بعض دفعہ ایسا پروگرام ہوتا تھا کہ بظاہر تھک جانا چاہیے۔لیکن اس میں کوئی تکلف نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے خود بخود ایک طبعی طاقت پیدا فرما دی تھی، جس کے نتیجہ میں تھکاوٹ کا کوئی احساس نہیں رہتا تھا اور ساتھ ساتھ ایسی روحانی غذا ملتی تھی ، جو در حقیقت ایک توانائی پیدا کر رہی تھی۔جو مستغنی کر رہی تھی ، ہر دوسرے آرام سے۔مثلاً جب ہم جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جلد جلد ہونے والی پاک تبدیلیاں دیکھتے تھے، پہلے بھی وہ ایک پاک جماعت ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔اس کے باوجود روحانی ترقی کے میدان میں تو کوئی آخری منزل نہیں ہے۔ایک منزل کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے ) جب احمدی احباب کو نئی منزلیں طے کرتے دیکھتے تھے تو دل اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ بھر جاتا تھا۔بارہا ایسے نظارے دیکھے ہیں کہ ایسے نوجوان، جو پہلے نمازوں میں ست تھے ، (جیسا کہ بعد میں انہوں نے خود ذ کر کیا کہ ہم تو پانچ وقت نمازیں بھی نہیں پڑھا کرتے تھے ) تہجد میں حاضر ہونے لگے، بڑے درد اور کرب کے ساتھ دعائیں کرنے لگے اور دعاؤں کے لئے کہنے لگے۔اور ان کی دعاؤں کی درخواست یہ نہیں ہوتی تھی کہ ہمیں دنیا ملے۔دعا کی درخواست یہ ہوتی تھی کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دین احمد کے لئے فدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ وہ روحانی غذا ہے، جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔یہ جسم کے انگ انگ کو سہلاتی تھی تسکین پہنچاتی تھی ، اور نئی طاقت اور توانائی سے بھر دیتی تھی۔پھر غیروں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے فضلوں کے نظارے دکھائے۔بسا اوقات ایسا ہوا کہ پریس کانفرنس میں بڑی معاندانہ نظروں سے دیکھا گیا۔بعض اوقات تو وہ اس طرح Cross Examine کرتے تھے کہ منہ سے تو نہیں کہتے تھے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو مگر سمجھتے یہی تھے کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ان 224