تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 226
خطاب فرمودہ 06 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس یہ چند باتیں ہیں، جو میں یہاں مختصراً عرض کر سکتا ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ، آپ کی بھوک آپ کو یاد کر رہی ہوگی اور مجھے اگر چہ بھوک تو نہیں ہے۔لیکن یہ یاد ہے کہ کھانا بہر حال کھانا ہے۔باقی باتیں انشاء اللہ کل سہی۔میں آپ کا بہت ممنون ہوں، آپ نے بڑی محبت کے ساتھ اور بڑے پیار کے ساتھ سلوک فرمایا۔اب بھی اور اس سے پہلے بھی، جب تک انصار سے وابستہ رہا ہوں، بہت ہی غیر معمولی تعاون فرمایا ہے۔حالانکہ میری کوئی حیثیت نہیں تھی، میری کوئی بساط نہیں تھی۔میں یہاں تھا ہی نہیں، جب آپ نے مجھے صدر چنا تھا۔اس وجہ سے میں اپنے آپ کو بڑا اوپر محسوس کرتا تھا۔عمر کے لحاظ سے اگر چہ بوڑھا تو تھا لیکن اپنے آپ کو بوڑھا ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔اس لئے بھی اوپر الگتا تھا کہ بوڑھا بھی بنوں بلکہ بوڑھوں کا صدر بن کے بیٹھ جاؤں۔اور دوسرے اس لئے کہ مجھے سے پہلے جیسا کہ آپ کو علم ہے، میرے بڑے بھائی مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بہت لمبا عرصہ تک انصار کی صدارت فرماتے رہے ہیں اور مجھے کسی مجلس عاملہ میں بھی شامل ہونے کا موقع نہیں۔پہلے میں خدام الاحمدیہ کے کاموں میں مصروف رہا، پھر دوسرے کاموں میں مصروف رہا۔اس لئے بالکل تجر بہ نہیں تھا کہ اس مجلس کے کیا آداب ہیں؟ اس کو کس طرح چلاتا ہے؟ اس وجہ سے پریشانی تھی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ نام تو لگ جاتے ہیں، جس کے ذمہ کام لگایا جاتا ہے۔ورنہ جماعت کے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔اور ساری جماعت ایک وجود کے طور پر ہے، جو تمام پاک کوششوں میں شامل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کارکنوں کو جزائے خیر عطا فرمائے ، جنہوں نے کسی نہ کسی حیثیت سے محض اللہ تعاون فرمایا اور یہ مجلس پہلے سے آگے بڑھتی رہی۔ایک دور کا سوال نہیں ہے، ہر دور میں یہ مجلس آگے بڑھے گی۔میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ آگے بڑھنا آپ کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ہر اگلے دور میں محسوس ہوگا کہ یہ مجلس پچھلے دور سے آگے بڑھ گئی۔لیکن نہ پچھلوں کا قصور ہوگا، نہ انگلوں کی خوبی۔حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کے مقدر میں آگے ہی آگے جانا ہے، اس نے آگے بڑھنا ہے، اس کے لئے بھی ٹھہرنے کا وقت نہیں آئے گا۔نہ آپ کے لئے آسکتا ہے، نہ انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے اعمال اس راہ میں حائل نہ ہو جائیں۔کیونکہ جہاں تک تقدیر الہی کا تعلق ہے، وہ یہی ہے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 08 جون 1983ء) 226