تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 217
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 05 نومبر 1982ء اس سے انکار نہیں لیکن جو لطف ساری زندگی پیش کر دینے میں ہے، وہ لطف اس قسم کی خدمتوں میں میسر نہیں آسکتا۔یہ لطف بھی کیا لطف ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے اپنی رضا کی گردن پر چھری رکھ دے۔اور وہ پھر اپنا ہاتھ اٹھالے اور سلسلہ سے کہے کہ اب جس کے ہاتھ میں چاہو، چھری پکڑا دو۔ہم اف نہیں کریں گے۔پس اگر انسان اپنے دل میں کوئی امنگ نہ رہنے دے، کوئی تمنا نہ رہنے دے، وہ یہ فیصلہ کر لے کہ دنیا کی زندگی کے جو مزے لوٹنے تھے، وہ لوٹ چکا ہوں، اب سب کچھ خدا کے لئے ہے۔اس ارادہ، اس اخلاص اور اس نیت کے ساتھ زندگی پیش کرنے کا ایک الگ لطف ہے۔اس لئے ایسے انصار ، جن کو دنیا کے ذرائع معاش میسر ہوں، وہ اگر اپنے دل میں یہ ہمت پاتے ہوں، اگر ان کے حالات اجازت دیتے ہوں۔تھوڑے ہی گزارہ کرنے کی توفیق پالیتے ہوں تو ان کو میں یہی کہوں گا کہ یہ بہت بہتر راستہ ہے۔وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں اور سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں حصہ لیں۔کیونکہ جتنے زیادہ واقفین اس وقت میسر آئیں گے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی ہی تیزی کے ساتھ اسلام کو چہار دانگ عالم میں فتح نصیب ہوگی۔علاوہ ازیں ایسے واقفین بھی چاہئیں، جو یہ توفیق رکھتے ہوں کہ مرکز سے باہر جا کر بھی خدمت دین کر سکیں۔یہ بھی اس قسم کا رضا کارانہ وقف ہوگا۔اس تحریک سے پہلے ہی بعض دوستوں نے اپنے نام اس و سلسلہ میں پیش کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک ہوا چلی ہے انگلستان میں بھی ، یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی۔واپس آیا تو کراچی میں بھی اور یہاں آنے کے بعد پنجاب کی مختلف جماعتوں سے بھی ایسے نام پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے اسی ارادہ کا اظہار کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔چنانچہ بعض دوستوں نے تو یہاں تک اصرار کیا کہ ابھی اسی وقت ہمارا وقف قبول کیا جائے اور اسی وقت خدمت سپرد کی جائے۔چند دن ہوئے سرگودہا کے ایک دوست تشریف لائے۔کہنے لگے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں، ابھی تک میرا اوقف قبول نہیں ہوا۔میں نے کہا: ہمیں تو بڑی ضرورت ہے، آپ کو انشاء اللہ کسی جگہ لگا دیں گے۔انہوں نے کہا: مجھے چین نہیں آئے گا، مجھے ابھی لگا ئیں۔اور کوئی کام نہیں تو مجھے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کلرک لگا دیں۔یہ نہیں تو بے شک مدد گار کا رکن بنادیں۔میں کوئی شکوہ نہیں کروں گا، کوئی سوال نہیں ہو گا کہ مجھے کس آسامی پر لگایا جا رہا ہے؟ پر ابھی لگا ئیں ورنہ میرے دل کو چین نصیب نہیں ہو گا۔چنانچہ اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب پاس کھڑے تھے، میں نے ان سے کہا: کوئی کام ان کے سپرد کر دیں۔اللہ کے فضل سے انہوں نے اسی وقت کام شروع کر دیا۔217