تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 216

خطاب فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہے ہیں اور اس کے ساتھ ہر شعبہ میں کارکنوں کی کمی محسوس ہورہی ہے۔جو کام اس وقت ہاتھ میں ہیں، ان کو پورا کرنے کے لئے بھی مزید انسانی قوت کی ضرورت ہے۔لیکن جو کام ابھی تشنہ پڑے ہوئے ہیں، بعض ابھی توجہ طلب ہیں ، ان کے لئے اور بھی زیادہ کثرت کے ساتھ انصار چاہیں۔سورۃ صف کی ان آیات میں جو آپ کے سامنے ابھی تلاوت کی گئی تھیں، یعنی من انصاری الی اللہ ، اس میں خدا کی طرف لے جانے والے انصار، خدا کی خاطر اپنے نام پیش کرنے والے انصار مراد ہیں۔اس میں شک نہیں کہ انصار کے لفظ میں صرف وہی لوگ شامل نہیں، جن کی عمر چالیس (40) سال سے زیادہ ہے۔من انصاری الی اللہ کے اس اعلان میں بوڑھے بھی شامل ہیں اور بچے بھی۔جوان بھی شامل ہیں اور عورتیں بھی۔غرض زندگی کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے اور عمر کے ہر دور سے تعلق رکھنے والے اس میں شامل ہیں۔لیکن انصار کو خصوصیت کے ساتھ میں اس وجہ سے مخاطب ہوں کہ ہماری بعض ضرورتیں فوری طور پر انصار پوری کر سکتے ہیں۔ہمارے بہت سے ایسے انصار ہیں، جو ریٹائر منٹ کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔بہت سے ایسے بھی ہیں، جو ریٹائر منٹ کو پہنچ چکے ہیں۔ان میں سے کئی ایسے بھی ہوں گے، جن کو ذریعہ معاش کی کچھ اور صورتیں حاصل ہو گئی ہوں۔روزی کمانے کے کچھ نئے رستے میسر آگئے ہوں۔لیکن کچھ ایسے بھی ہوں گے اور غالباً زیادہ تعداد ایسے دوستوں کی ہوتی ہے، جن کو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی کام نہیں ملتا۔پس جن کو کام نہیں ملتا، ان کی اس سے زیادہ خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی بقیہ عمر خدا کے دین کے خدمت کے لئے رضا کارانہ طور پر وقت کر دیں؟ ( یہ وقف، خصوصی وقف ہے۔اس لئے یہ رضا کارانہ طور پر ہو گا۔اس میں سلسلہ ان کو مالی لحاظ سے کچھ بھی نہیں دے گا۔اگر وہ گھر بیٹے گزارہ کر لیتے ہیں تو مرکز میں آکر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔ہاں اگر کوئی مجبور ہو، گھر سے جدا ہو کر وہ علیحدہ خوراک وغیرہ کے انتظام کی سکت نہ پاتا ہو تو اس کے کھانے اور رہائش وغیرہ کے انتظام کی حد تک رعایت دی جاسکتی ہے۔مگر بہر حال چونکہ کام بہت بڑھ رہا ہے ، اس لئے خالص رضا کارواقفین کی بھی ضرورت ہے۔) دوسرے وہ دوست ، جو ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد رزق کے بعض اور رستے پالیتے ہیں، ان کو نئے نئے ذرائع معاش میسر آ جاتے ہیں۔ان سے میں یہ کہتا ہوں کہ آپ نے زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا کمانے میں صرف کیا۔اب یہ چھوٹی سی آزمائش آپ کو در پیش ہے، اب اس قصہ کو ختم کریں۔کیا پتہ خدا کی طرف کس وقت کسی کو بلاوا آ جائے؟ اگر چہ عمر کا ایک بڑا حصہ آپ نے مقامی طور پر خدمت کرنے میں گزارا۔لیکن با قاعدہ واقف کے طور پر نہیں۔سلسلہ کے کاموں میں پیش پیش رہ کر خدمت کی توفیق ملی۔216