تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 218

خطاب فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم They also serve, who stand and wait پس ایسے زندہ دل اور ایسے جواں ہمت انصار کی ضرورت ہے، جو ان نیک ارادوں کے ساتھ اپنے نام پیش کریں کہ انہیں جہاں بھی جس شکل میں بھی خدمت کے کام پر لگایا جائے گا، وہ اس کو انعام سمجھیں گے، اللہ کی رحمت تصور کریں گے۔اگر ادنیٰ سے ادنی کام پر بھی لگایا جائے گا، تب بھی وہ خوش ہوں گے کہ خدا کے نوکر ہیں۔اگر کام نہیں بھی ہوگا، ان کا وقت بظاہر ضائع بھی ہو رہا ہو گا ، تب بھی وہ یہ سمجھیں گے کہ خدا کی خاطر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔اس سے بہتر زندگی اور کیا ہو سکتی ہے؟ خدا کی خاطر یہ بریکاری بھی ہزار ہا کا موں سے بہتر ہوتی ہے۔ملٹن نے اس مضمون کو سمجھا۔اس نے اپنے شعر میں اس کو بیان کیا۔ملٹن وہ شاعر ہے، جو آخری عمر میں اندھا ہو گیا تھا۔ایک ایسا آدمی جس کی فعال زندگی گزری ہو، تمام عمر کاموں میں صرف ہوئی ہو، وہ اگر آخری عمر میں اندھا ہو جائے تو اس کے دل کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔وہ قدم قدم پر بڑا دکھ محسوس کرتا ہے۔ملٹن میں نیکی بھی پائی جاتی تھی، وہ خدا کا ایک خاص خوف بھی دل میں رکھتا تھا، اس کی محبت بھی رکھتا تھا۔چنانچہ اس نے اپنی ایک نظم میں اپنی اس کیفیت کو ظاہر کرتے ہوئے اپنے دل کو اسی طرح تسکین دی، اس نے کہا :۔کہ اے ملٹن ! تم غم نہ کرو، وہ بھی تو خدمت ہی میں ہوتے ہیں، جو کھڑے ہو کر حکم کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ہم لوگ تو اس سے کہیں زیادہ عارف باللہ ہیں۔وہ تو ایک تصوراتی خدا سے محبت کرتا تھا، ہم ایک حقیقی خدا کے بندے ہیں۔ہم ایک ایسے خدا کے بندے اور عاشق اور محبت ہیں، جو سب حقیقتوں سے زیادہ کچی حقیقت ہے۔پس ہمیں اس سے کہیں زیادہ عاجزی اور گریہ وزاری کے ساتھ اپنے نفوس کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہئے۔اور ایسے لوگ کثرت کے ساتھ اپنے نام پیش کریں، جو زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا میں گزار چکے ہیں، ان کے بچے بڑے ہو گئے ہیں، وہ اپنے آپ کو سنبھالنے لگ گئے ہیں۔کافی ہوگئی دنیا کی خدمت، اب سلسلہ کو ختم کرنا چاہئے اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر یہ عہد کریں کہ جو بھی خدمات ان کے سپرد کی جائیں گی ، وہ ان کو بجالائیں گے اور ذمہ داریوں کو خوشی خوشی اٹھا ئیں گے۔وہ اپنے آپ کو بڑا ہی خوش قسمت سمجھیں کہ وہ آخری سانس جو لیں گے، وہ خدا کی خاطر حاضر ہونے والے انصار کے طور پر سانس لے رہے ہوں گے۔وقف کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نو جوان آگے آئیں۔اس لحاظ سے بھی انصار بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔کیونکہ انصار عمر کے لحاظ سے جماعت کا وہ گروہ ہے، جن کے بچے اللہ تعالی کے فضل 218