تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 196
ارشاد فرموده 26 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اس کشف کا ظاہری طور پر پورا ہونا ، اس طرح بھی مقدر تھا۔آپ کو ایک ایسا غلام عطا ہو، جو تمام انبیاء کا مظہر ہو کر آپ کی غلامی کا اقرار کرے۔اور واقعہ گویا تمام انبیاء اس کے وجود میں حضرت مصطفی محمد صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم کی غلامی کا اقرار کریں۔بلکہ اس کی غلامی پر فخر کریں۔ایک طرف وہ مسیح ہے، جسے عیسائیوں نے خدا کا بیٹا قرار دیا۔اور یہاں وہ مسیح ہے ، جو کہتا ہے کہ میں تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی جوتیوں کا غلام ہوں۔میرا سارا فخر اسی میں ہے کہ میں نے جو کچھ پایا، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں سے پایا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ سارے دعاوی اس معنی میں ہیں کہ جتنے بھی انبیاء پہلے مبعوث ہوئے ، ان کی یا ان کے بارے میں کسی نہ کسی رنگ میں آئندہ آنے کی ، جو پیشگوئیاں ملتی تھیں ، وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام کی شکل میں پوری ہو چکی ہیں۔خواہ کرشن نے آنا ہو یا بدھ نے آنا ہو۔یا زرتشت نے آنا ہو یا کسی اور نے آنا ہو۔یہ وجود الگ الگ نہیں آئیں گے۔بلکہ ایک وجود نے ظاہر ہونا تھا۔اور حضرت نے فرمایا کہ یہ ساری پیشگوئیاں میری ذات میں پوری ہو چکی ہیں۔یہ تو ہے دعوئی ، اب سوال یہ ہے کہ اس دعوے کا ثبوت کیا ہوگا ؟ جب تک ہم کوئی معین ثبوت پیش نہ کریں، خالی دعوے سے تو بات نہیں بنے گی۔یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ فلاں عیسی کا غلام ہے اور ساری دنیا کے انبیاء کا مظہر ہے۔لہذا اس سے ثابت ہو گیا کہ عیسی افضل ہیں۔پس ایک احمدی کو معقول بات کرنی چاہئے۔اپنی بات کو صرف دعوے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔اس دعوے کا ثبوت یہ ہوگا کہ جماعت احمد یہ کے ذریعے تمام دنیا کے ادیان اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔تمام دنیا کے انبیاء کے پیرو کار مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں داخل ہو کر یہ ثابت کریں گے کہ ہاں واقعہ یہی ہمارا وہ امام تھا، جس نے آنا تھا۔اور وہ امام رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی میں پیدا ہوا ہے۔پس اس کا اصل مثبوت اسلام کا ادیان باطلہ پر وہ غلبہ ہے، جو احمدیت کے ذریعہ مقدر ہے۔اور جس کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔جب تک آپ ثبوت کی طرف قدم نہ اٹھائیں ، آپ کو دعوؤں کا کوئی حق نہیں۔جو احمدی محنت اور قربانی کے ذریعے اس دعوے کا ثبوت مہیا کرنے کی کوشش نہیں کرتا ، اسے خالی دعوے کرنے اور نعرے لگانے کا بھی حق نہیں رہتا۔تو ان پیشگوئیوں کی اصل تعبیر اس وقت ظاہر ہوگی ، جب ساری دنیا میں ہر مذہب کی اکثریت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی کا دم بھر کے اقرار کرلے گی کہ ہمارے انبیاء آپ کے غلام تھے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 13 جون 1983ء) 196