تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 197
تحریک جدید - ایک الہی تحریک بیوت المحمد سکیم کا اعلان اقتباس از خطبه جمعه فرموده 129اکتوبر 1982ء خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اکتوبر 1982ء۔۔۔۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میری توجہ مسجد بشارت سپین کی طرف منتقل ہو گئی اور میں نے سوچا کہ ساری دنیا میں جماعت احمد یہ اللہ کی حمد کے ترانے گا رہی ہے اور سب دنیا پر یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مسجد بشارت کی تعمیر کی جو تاریخ ساز سعادت ہمیں نصیب ہوئی، بی محض ہمارے رب کی رحمانیت اور رحیمیت کے طفیل ہے۔اسی نے ہمیں اس مہم کا آغاز کرنے کی توفیق بخشی اور اس نے تکمیل کے مراحل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی۔یعنی جو کچھ بھی ہم نے کیا محض اس کی رحمانیت اور رحیمیت کے جلووں کے تابع کیا۔ہمارے دل بھی اس ولولہ کو اور رحمن اور رحیم خدا کے احسانات کو بڑی شدت سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کے احسانات کا تصور دل میں محبت کے طوفان اٹھا رہا ہے۔اور ہر احمدی کا دل پہلے سے بڑھ کر رحمن ورحیم خدا کی محبت کا جوش محسوس کرتا ہے۔میں نے سوچا کہ حمد کی یہ دو شرطیں تو ہم نے پوری کر دیں۔تیسری شرط کس طرح پوری کریں؟ یعنی اعمال میں اس حمد کو کس طرح جاری کریں؟ اس سلسلہ میں بہت سے مضامین میرے ذہن میں روشن ہوئے کہ یہ یہ طریق ہیں، اس حمد کو جاری کرنے کے۔خدا کے اور گھر بنانا، ان کی آبادی کے سامان پیدا کرنا ، اس کے لیے جد و جہد کرنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مضامین مجھ پر روشن فرمائے ، جن کے نتیجہ میں یورپ میں بھی بعض اقدامات کئے گئے اور یہاں آکر بھی ان اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا مضمون بھی سمجھایا ، جس کا میں اب یہاں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے گھر بنانے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اس طرح یہ حد کی عملی شکل ہوگی ، جوہم اختیار کریں گے۔اور اپنے اعمال سے گواہی دیں گے کہ ہاں واقعہ ہم اللہ کی اس رضا پر بہت راضی ہیں کہ اس نے ہمیں اپنا گھر بنانے کی توفیق بخشی۔پس ہم اس کے غریب بندوں کے گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ کر کے اس کے اس عظیم احسان کا عملی اظہار کریں گے۔اس شکل میں جب میں نے غور کیا تو میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ سب سے پہلے اس مقصد کے لئے میں خود نمونہ کچھ پیش کروں۔غریبوں کے گھر بنانے کے لئے ایک فنڈ قائم کیا جائے۔ایک 197