تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 176
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اکتوبر 1982 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک سکتا ہے تو سب سے زیادہ خود کشی آج ترقی یافتہ قوموں میں پائی جاتی ہے۔اگر پاگل پن کوئی پیمانہ ہوسکتا ہے تو اس کثرت کے ساتھ پاگل پیدا ہورہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ان قوموں کے پاس ذرائع بہت زیادہ ہیں اور ہمارے ملک کے پاگل خانوں کی نسبت انہوں نے سینکڑوں گنازیادہ پاگل خانے بنائے ہوئے ہیں، پھر بھی وہ پاگل خانے بھر جاتے ہیں اور پاگل رکھنے کی جگہ نہیں ملتی۔پھر وہ دوسرے Homes بناتے ہیں۔پھر ایسی اور سوسائٹیاں پیدا ہو جاتی ہیں، ان کی مدد کے لئے۔چنانچہ صرف امریکہ میں اتنے پاگل خانے ہیں کہ ان کی Exact گنتی تو مجھے یاد نہیں لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان بلکہ سارے مشرق کے پاگل خانے ملا لیے جائیں تو اس سے کئی گنا زیادہ صرف امریکہ میں پاگل خانے ہیں۔اور کیوز Cues لگے ہوئے ہیں اور باری نہیں آرہی۔اور کچھ مینٹل ہومز (Mental Homes) ہیں، جو اس کے علاوہ ہیں۔دینی بے چینی کا اس وقت یہ عالم ہے کہ صرف وہیلیم (Valium) پر، جو ایک معمولی سی دوائی ہے، پچاس کروڑ ڈالر یا پانچ ارب روپیہ سالانہ خرچ ہورہا ہے، جو بعض ممالک کی کل آمد سے بھی بڑھ کر ہے۔وہ صرف ذہنی بے چینی کو دور کرنے کے لیے ایک دوائی کے اوپر خرچ کر رہے ہیں۔اور سارے Drugs پر امریکہ میں جو خرچ ہو رہا ہے، وہ مشرق کے بہت سارے ملکوں کی اجتماعی دولت سے بھی زیادہ ہے۔یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس لیے کہ ان کا دل گواہی دے رہا ہے کہ وَمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ہم نے جو کوشش کی تھی حصول لذت کی، اس میں ہم نا کام ہو گئے ہیں۔ایک منزل سے دوسری کی طرف بڑھے، دوسری سے تیسری کی طرف بڑھے، یہاں تک کہ بالآخر ہم نے یہ دیکھا کہ وہ سب کچھ جو ہمارا ماحصل تھا، وہ ایک ایسی زردی میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔سبز کھیتی، جس طرح لذت عطا کرتی ہے نگاہ کو، اگر وہ پھل دینے سے پہلے مرنی شروع ہو جائے تو زمیندار کوکتنی تکلیف ہوتی ہے۔وہ نقشہ قرآن کریم کھینچ رہا ہے۔بیچ میں کہیں پھل کا ذکر نہیں۔فرماتا ہے، کھیتیاں لہلہاتی تو نظر آئیں گی تمہیں۔لیکن ان کو پھل نہیں لگے گا۔وہ دیکھتے دیکھتے خشک ہونے لگیں گی اور خشک ہو کر جب زردی میں تبدیل ہوں گی، پھر تمہیں تکلیف ہونی شروع ہوگی۔اور اس تکلیف کے نتیجے میں تم محسوس کرو گے، جو کچھ ہم نے حاصل کیا تھا، سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔کچھ بھی ہمارے پاس نہیں رہا۔تب دل کی آواز اٹھتی ہے:۔وَمَا الْحَيوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ یہ ویسا ہی نقشہ ہے، جس طرح انفرادی طور پر ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے۔میر درد نے اسی حالت پر غور کیا تو یہ شعر کہا:۔176