تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 175
تحریک جدید- ایک البی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرمود 22 اکتوبر 1982ء اسلامی معاشرہ کو اختیار کیے بغیر ہم دنیا کے معاشرے کو بدل نہیں سکتے خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اکتوبر 1982ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ زندگی ، جس کے لئے انسان اپنی تمام تر توجہات ضائع کر دیتا ہے، تمام کوششوں اور تمام زندگی کی جدو جہد کا مقصود، جس زندگی کو بنالیتا ہے، وہ زندگی کھیل ہے اور لہو ہے اور زینت ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے کا ذریعہ ہے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے وو۔۔۔66 سے سبقت لے جانے اور ایک دوسرے سے زیادہ کثیر تعداد میں ان کے مالک بننے کا نام ہے۔دیکھو! دنیا کی زندگی ایک دھو کے کے سوا کچھ بھی نہیں۔اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑو، ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ تا کہ تمہیں اپنے رب کی طرف سے مغفرت حاصل ہو۔اور ایسی جنت ملے، جس کی قیمت یا جس کا حجم ، دونوں لحاظ سے آسمان اور زمین کے برابر ہو۔یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے، جو ایمان لاتے ہیں، اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔یہ خاص فضل ہے، اللہ کی طرف سے، وہ جسے چاہتا ہے، اپنے فضل سے نوازتا ہے۔یورپ میں جانے والے جانتے ہیں کہ ساری یورپین تہذیب اپنے ماحصل سے مایوس ہو چکی ہے۔جو کچھ انہوں نے حاصل کیا لذتوں میں ، وہ اب ان کے لیے پرانا ہو گیا ہے۔نئے نئے رستوں کی تلاش کرتے ہیں، اس سے زیادہ ان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔تکاثر کے نتیجے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جس قومی دوڑ میں داخل ہو گئے ہیں، اس نے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ان کو نظر آرہا ہے کہ کوئی بعید نہیں کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا تھا، دیکھتے دیکھتے یہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا۔انتہائی مایوسی کا عالم ہے۔یورپ میں جتنی بھی نئی مومنٹس چل رہی ہیں، وہ اس بات کی مظہر ہیں کہ قرآن کریم کا یہ بیان سچا ہے کہ کچھ عرصے تک لذتوں کے حصول کے بعد تم خودان لذتوں میں دلچسپی کھو دو گے۔بالآخر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ آج مغرب کی آواز بھی یہی اٹھ رہی ہے کہ ہم نے کیا حاصل کیا ؟ حقیقت میں ہمیں چین نصیب نہیں ہوا۔اتنی بے چینی ، اتنی بے قراری ہے، آج ان ترقی یافتہ قوموں میں۔اگر خود کشی کا حجان کوئی پیمانہ ہو 175