تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 124
خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اُدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل :126) کہ حکمت کے ساتھ اس کام کو سرانجام دو۔اور حکمت کے تقاضے یہ ہیں کہ حسب حالات الگ الگ لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔عورتیں ایک خاص مقام اور احترام رکھتی ہیں، اس لئے جماعت کسی ایسی سکیم کی اجازت تو نہیں دے سکتی کہ جس میں عورت کا جو منصب ہے احترام کا، اس کو کسی قسم کا گزند پہنچ سکے یاکسی رنگ میں زخم آجائے۔اس لئے ایسی کوئی سکیم منظور نہیں ہو سکتی۔لیکن اپنے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ، اپنے حالات کے پیش نظر ہر عورت کسی نہ کسی رنگ میں تبلیغ کر سکتی ہے۔اس کے تعلقات کے دائرے ہیں، اس کی سہیلیاں ہیں، ان کو اپنے گھر میں چائے پر بلاسکتی ہے۔وہاں تو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ غلط نہیں پیدا ہو یا دل آزاری ہو۔اپنی محبت والیوں کو بلائیں، ان کے گھر جائیں ، ان سے باتیں کریں۔اور ہر احمدی خاتون کو خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو، تبلیغ میں جھونک دیں۔اس لئے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو یہ ایک مرکزی منصوبہ بنانا ہوگا، جس کا تعلق تمام دنیا کی بجنات سے ہو، صرف پاکستان سے نہیں۔اور طریق کار یہ ہوگا کہ چھوٹے یونٹ اپنی اپنی سکیمیں بنائیں اور مرکزی لجنہ کو ہدایت اور راہنمائی کے لئے بھجوائیں۔اور ان کی جو اجتماعی شکل بنتی ہے، اس پر غور کرنے کے بعد مرکزی منصوبے کے اعداد و شمار ظاہر ہوں گے۔مثلاً شیخوپورہ ہے، سرگودھا ہے، خدا تعالیٰ کے فضل سے دونوں بڑی کام کرنے والی مجالس ہیں، لجنہ کی۔اگر وہ یہ کام کر رہی ہیں تو ایک باقاعدہ چھوٹا منصوبہ بنانا چاہیے اور اس کی منظوری لینی چاہیے تا کہ اس میں کوئی ایسا پہلو نہ آجائے ، جو کسی لحاظ سے بھی حکمت کے خلاف ہویا کسی پہلو سے بھی ملک کی فضا کو مکدر کرنے کا کردار ادا کرے۔بہر حال ہم نے امن کو قائم رکھنا ہے۔اور قیام امن اسلام کے پھیلاؤ کے لئے لازمی حصہ ہے۔ان دونوں کا ایسا جوڑ ہے، جسے دنیا میں کبھی کوئی الگ نہیں کر سکتا۔چنانچہ یہ جو الزام لگانے والے ہیں اسلام پر کہ تلوار کے زور سے پھیلا۔ان کا ایک بہت ہی پیارا اور منہ توڑ جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا اور انہیں سے میں نے یہ نکتہ سیکھا کہ اگر اسلام تلوار سے پھیلا تھا تو جنگ کے زمانہ میں اسلام کی تبلیغ زیادہ تیز ہونی چاہیے اور مسلمان ہونے والوں کی نسبت بہت تیزی کے ساتھ بڑھنی چاہیے۔اور چونکہ تمہارے نزدیک یہ تلوار کا مذہب ہے، اس لئے امن کے زمانے میں اس کے برعکس شکل نظر آنی 124