تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 123

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اپنے زیور پیش کر رہی ہے۔حضور جانتے تھے کہ اس کی مالی حالت ایسی ہے کہ اس سے پوری قربانی نہیں لینی چاہیے۔حضور انکار کر رہے تھے۔روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔اس قدر زار زار روئی کہ حضور میں نہیں جاؤں گی، جب تک مجھ سے قبول نہ کر لیں۔آخر مجبور ہو کر حضور کو وہ زیور خدمت دین کے لئے قبول کرنا پڑا۔یہ ایسا حیرت انگیز وقت تھا کہ بچپن کے باوجود دل پر ہمیشہ کے لئے ایسا رسم ہوا، ایسا لکھا گیا گہرے حروف میں کہ جس طرح چیز کھودی جاتی ہے اور ان مٹ نشان بن گیا۔اور بھی بہت سے پاکیزہ نظارے دیکھے۔وہاں باجماعت نمازیں ہوتی تھیں اور خاص وقتوں میں جبکہ جماعت پر ابتلاء آیا کرتے تھے، مختلف مستورات ہمارے گھر میں اکٹھی ہوتیں۔باجماعت نماز ہوتی۔عورت ہی نماز پڑھاتی، عورتیں پیچھے نماز پڑھتیں۔اور اس وقت عجیب گریہ وزاری کا عالم ہوتا تھا۔کئی ابتلاء آئے احمدیت پر ، جن میں عورتوں نے قربانی میں بہت پیش پیش حصہ لیا۔اس لئے گو میں نے یہ کہا کہ تکلیف کا تعلق تھا لیکن یہ تکلیف ایسی حسین، ایسی دیگر از یادوں میں ڈھل گئی کہ ہمیشہ کے لئے لجنہ کے نام کے ساتھ ایک محبت اور ذاتی تعلق پیدا ہو گیا۔یہی وجہ ہے شاید کہ اور باتوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے وہاں لجنہ کا لفظ ، نام استعمال فرمایا، میرے اس قلبی اور ذاتی تعلق کے اظہار کی خاطر۔لیکن جیسا کہ میں نے گزارش کی ہے، اس زمانے میں وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اس خواب کا کوئی ایسا مطلب ہے، جو بعد میں پورا ہونا ہے۔اور نہ مقام تھا کہ اس خواب کا اظہار کر تا کسی سے۔اور یہ بہت ضروری ہے، ورنہ شیطان نفس کو دھو کے دیتا ہے اور نیکی کی راہ سے ہٹا کر ظلمت اور گمراہی کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔اس لئے بہت بڑا خوف کا مقام ہوتا ہے۔جب اس قسم کی کوئی رؤیا کسی کو نظر آئے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا خوف کرنا چاہیے، استغفار کرنی چاہیے۔لیکن اب میں آپ کو اس لئے بتارہا ہوں کہ اب میرا فرض ہے کہ آپ کو ان باتوں سے آگاہ کروں۔اور وہ منفی پیغامات ، جو بھی ہیں، اس قسم کی رؤیا میں وہ آپ کے سامنے کھول کر رکھوں۔بنیادی طور پر میں سمجھتا ہوں، سب سے اہم مطلب جو اس کا ہے، وہ یہی ہے کہ لجنہ کو یعنی احمدی مستورات کو جہاد میں حصہ لینا پڑے گا۔چنانچہ باہر یورپ میں ، اس رؤیا کے یاد آنے کے بعد ، خاص طور پر مستورات کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔اور عجیب اتفاق ہے کہ جب میں پاکستان سے ابھی روانہ بھی نہیں ہوا تھا، لجنہ کے دو وفود ملنے آئے۔دونوں کو میں نے بغیر اس کے کہ میرے ذہن میں یہ خواب ہو، پہلے ہی تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی۔تو مستورات کو بہر حال اب مجاہدے میں شامل ہونا پڑے گا۔کس رنگ میں؟ یہ فیصلہ مستورات خود کریں گی۔کیونکہ قرآن کریم تبلیغ کے مضمون کو حکمت کے ساتھ باندھتا ہے۔123