تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 102
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم پس یہ ٹھیک ہے کہ خوشی کے وقت یہ بھی جائز ہے اور ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ انسان نعرے بلند کرتا ہے۔لیکن نعرے بھی ایسے معنی خیز ہونے چاہئیں، جو آپ کے جذبات کو خالی نہ کر دیں، انڈیل نہ دیں بلکہ لامتناہی معانی کے جہان آپ کے دلوں میں روشن کرنے والے نعرے ہوں۔مثلاً اللہ اکبر کا نعرہ ہے۔یہ ایک ایسا عظیم الشان نعرہ ہے کہ اگر ساری عمر تو میں اس نعرے کو بلند کرتی چلی جائیں اور فلک شگاف نعرے بلند کرتی چلی جائیں تب بھی یہ اللہ اکبر کا مضمون ختم نہیں ہو سکتا۔ہر ترقی، ہر بڑائی بتاتی ہے کہ سب سے بڑا تو خدا ہے اور اس کی نہ ختم ہونے والی بڑائی ہے۔جس کی بڑائی نہ ختم ہونے والی ہو، اس کے لئے نہ ختم ہونے والے نعرے لگتے چلے جائیں گے۔اور ان نعروں کا کوئی انجام نہیں ہے۔ایسے نعروں کا کوئی اختتام نہیں ہے۔اسی طرح جب خدا ہمیں کوئی فتح عطا فرماتا ہے تو فتح کی کنہ کو سمجھنا چاہئے۔یہ مجھنا چاہئے کہ یہ فتح کس کے طفیل نصیب ہوئی؟ کیوں نصیب ہوئی ؟ میں نے جہاں تک قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے، وہاں کسی جغرافیائی فتح کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔اول سے آخر تک آپ قرآن کریم کا مطالعہ کریں، بار بار کریں، جس طرح چاہیں سمجھیں، جن ڈکشنریوں سے چاہیں، فائدہ اٹھائیں کسی علاقائی فتح کا قرآن کریم میں مومن کے لئے ذکر نہیں۔روحانی فتوحات کا ذکر ہے، دینی فتوحات کا ذکر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین تو قرار دیا گیا، فاتح عالم قرار نہیں دیا۔ہاں یہ فرمایا:۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبة: 33) کہ وہ اس لئے مبعوث فرمایا گیا ہے تا کہ تمام ادیان باطلہ پر فتح مند ہو۔اس لئے ہماری فتح نہ پین کی فتح ہے، نہ ہندوستان کی فتح ہے۔نہ یورپ کی فتح ہے، نہ امریکہ کی فتح ہے۔نہ جاپان کی ، نہ چھین کی کسی ایشیائی ملک کی فتح، ہماری فتح نہیں۔دنیا کے کسی جزیرہ کی فتح، ہماری فتح نہیں۔ہماری فتح تو وہی فتح ہے، جو ہمارے آقا کی فتح ہے۔اور وہ فتح لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کی فتح ہے۔آپ کو اس لئے مبعوث فرمایا گیا ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دیں۔اتنے عظیم الشان آقا سے واسطہ پڑ جائے ، اس کی غلامی کا انسان دم بھرنے لگے اور فتح سپین پر راضی ہو جائے۔یہ تو آپ کی شان نہیں۔اور وہ فتح ہو بھی ایسی، جو ابھی آئی نہ ہو، ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے آغاز کے آثار ظاہر کئے گئے ہوں۔اس لئے دوست اپنے اندر توازن پیدا کریں، باشعور نہیں، بالغ 102