تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 101

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم وو اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 اکتوبر 1982ء مسجد سپین کے ساتھ جو صبحیں ہم نے دیکھیں، اللہ کے فضل کی صبحیں جو پھوٹی ہیں، بلاشبہ ہمارے دل اس سے روشن ہو چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس صبح کی نمازیں ادا کریں اور خدا کی حمد کے گیت گائیں اور گاتے چلے جائیں ، تب بھی یہ ایسا فضل ہے، جس کے شکر کا حق ادا نہیں ہوگا۔لیکن اس کے نتیجہ میں جو بعض شر پیدا ہوتے ہیں، ان سے بھی محفوظ رہنے کی دعا ضروری ہے۔ایک تو صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے روشنی ظاہر ہونے پر آپ فجر کی نماز پڑھتے ہیں۔لیکن ایک وہ نماز ہے، جو ہر فلق کے وقت انسان کو پڑھنی چاہئے۔وہ نماز، ذکر الہی کی نماز ہے، جو انسان کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔یہ نماز اس توجہ کی نماز ہے کہ ہر نیا دور، ہرنئی شان، جو خدا نے ظاہر فرمائی ہے، جو اس کی رحمت اور فضلوں کا نشان ہے، ہمیں اس کے لئے اس کا شکر ادا کرنا چاہئے ، اس کی حمد کرنی چاہئے۔یہ تو ہے خیر خلق یعنی خلق کا خیر کا پہلو۔اور شر کا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لے۔وہ سمجھے کہ ہم نے آخری بازی جیت لی ہے، تمام دنیا فتح ہوگئی ہے کیونکہ ہم نے یہ صبح دیکھ لی، خدا کا یہ فضل دیکھ لیا ، اب اس کے بعد گو یا کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اور اس کے جو خطرات ہیں، ان سے وہ غافل ہو جائے۔اس سوچ میں خطرات ہیں، اس فکر میں خطرات مخفی ہیں، جن کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔وہ خطرات مثلاً ایک یہ کہ ایک انسان اگر ایک چھوٹی چیز پر راضی ہو جائے اور سمجھے کہ میں نے مقصد کو حاصل کر لیا ہے تو اگلا قدم نہیں اٹھائے گا۔اس راستے کے جو تقاضے ہیں، مثلاً محنت ہے، وہ ان کو پورا نہیں کرے گا۔وہ جذباتی طور پر اظہار کر کے بلند نعرے لگا کر سمجھے گا کہ میری مطلب براری ہوگئی ، آج مجھے مزہ آ گیا ، سب کچھ حاصل ہو گیا۔لیکن جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں اور اس کے لامتناہی فضل ہیں، ایک فلق نہیں، اس کے قبضہ قدرت میں بے شمار افلاق ہیں۔ان تمام فلقوں کا وہ رب ہے، اس نے آج یہ صبح ہمیں دکھائی ہے تو کل دوسری بھی دکھا سکتا ہے، پرسوں تیسری بھی دکھا سکتا ہے۔اور ایک نعمت پر راضی ہو کر وہیں بیٹھ رہنے والے نہیں۔اگر چہ ہم اس نعمت پر راضی ہیں مگر ان معنوں میں نہیں کہ ہم اسی پر بیٹھ رہیں۔کیونکہ خدا کی نعمتیں لا متناہی ہیں اور اس نے عطا کی ہیں۔ہمارا تو کچھ تھا ہی نہیں۔پس جب سب کچھ ہی اس نے عطا کیا ہے، وہ بلا وجہ اور بلا استحقاق کے یہ فضل فرما سکتا ہے تو اگلا فضل بھی ہم کیوں نہ اس سے مانگیں؟ ایک بیدار مغز انسان کی طبعاً اس طرف توجہ منتقل ہوتی ہے۔انسان اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتا۔اپنی کوشش سے غافل نہیں ہوتا۔ویسے بھی ایک دوسرا شریہ ہے کہ جو تو میں نعرہ بازیوں میں مبتلا ہو جائیں ، ان کے جذبات کی قوتیں ختم ہو جاتی ہیں۔اگر جذبات کو روکا جائے تو وہ اعمال میں ڈھل جایا کرتے ہیں۔اسی لئے ہر نعمت کے ساتھ صبر کی تلقین ہے کہ صبر ضرور اختیار کرنا کیونکہ صبر کے نتیجہ میں اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔101