تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 103
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد۔اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء النظر بنیں۔ان دعاؤں سے سبق سیکھیں، جو آپ کو ذہنی اور فکری تو ازن سکھاتی ہیں۔غور کر کے دعائیں کیا کریں۔اور توازن کو حاصل کریں، اس توازن کے لئے دعا مانگا کریں۔پھر اللہ تعالیٰ آپ سے بہت بڑے بڑے کام لے گا۔پھر آپ کی فتوحات کے دروازے لامتناہی ہیں۔اس وقت تک آپ کی فتوحات کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، جب تک لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کی پیشگوئی پوری نہیں ہو جاتی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فاتح ادیان عالم ہیں، ہمارا یہ نعرہ ہونا چاہئے۔اے اللہ ! اس فاتح ادیان عالم پر سلام بھیج اور درود بھیج، جس کی رحمتوں اور برکتوں سے ہم قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔اسی کے طفیل ہمیں وہ نعمتیں عطا ہو رہی ہیں، جن نعمتوں پر آج ہم خوب راضی ہیں۔لیکن ان معنوں میں راضی نہیں کہ ہمیں یہ کافی ہوگئیں۔تیرا وہ محبوب، جس کے ساتھ ہم وابستہ ہو گئے، وہ ساری نعمتیں، جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں، جب تک وہ حاصل نہیں کریں گے ، ہم راضی نہیں ہوں گے۔اس لئے رضا کے دو معنی ہیں۔ایک پہلو سے ہم ہر حال میں راضی ہیں۔تیری طرف سے ابتلا آئے، تب بھی راضی ہیں۔تیری طرف سے نعمت نازل ہو، چھوٹی ہو یا بڑی ہو ، ہم راضی ہیں۔لیکن ایک رضا ایسی ہے، جس کے بعد آگے اور خواہش پیدا نہیں ہوتی۔وہ رضا موت کی نشانی ہے، وہ رضا زندگی کی علامت نہیں ہے۔اس لئے رضا کے دوسرے معنوں میں ایک نہ ختم ہونے والی پیاس ہے، جو ہمیں اپنے رب کے حضور پیش کرتے چلے جانا چاہئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر فتح کے وقت درود بھیجنے چاہئیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جتنے بھی ادیان باطلہ یا ان کے اجزاء ہمارے ہاتھوں پر فتح ہو گئے ، ان سارے قلعوں کی فتوحات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کا سہرا ہیں۔ہم تو ادنی غلام ہیں، خاک پاہیں اس آقا کے ، جس کے صدقے اور جس کے طفیل یہ چھوٹی چھوٹی فتوحات نصیب ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان فتوحات کے دروازے وسیع تر کرتا چلا جائے۔نئے نئے میدان ہمیں نظر آئیں قربانیوں کے، اللہ تعالیٰ کے حضور عجز کے ساتھ قربانیاں پیش کرنے کے میدان۔ہم قربانیاں پیش کریں اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے وہ قربانیاں قبول ہوں۔اور نئی نئی فتوحات کے دروازے ہم پر کھلتے چلے جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو“۔مطبوعه روزنامه الفضل 03 نومبر 1982ء) 103