تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 100

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک نہیں کر رہی۔وہ تو تمہاری تاک میں بیٹھی رہے گی۔اور اس کو انتظار میں جتنی دیر لگے گی، اتنا ہی اس کا زہر بڑھتا چلا جائے گا۔اس لئے قیامت تک کے لئے ہر دشمنی کے شر سے محفوظ رکھنے کی دعا سکھا دی گئی۔کتنا عظیم الشان کلام ہے۔کوئی ایک پہلو بھی باقی نہیں چھوڑا، جو ترقیات کی راہ پر چلنے والی قوموں کی راہ میں پیش آسکتا ہے، جس کا قرآن کریم نے یہاں ذکر نہ فرمایا ہو۔سب سے پہلی بات جو بیان فرمائی گئی، اس کے نتیجہ میں کچھ ذمہ داریاں بھی ہم پر عائد ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ خالق اللہ ہے، تم نہیں ہو۔تم سمجھتے ہو کہ تمہاری کوششوں کے نتیجہ میں ایک چیز پیدا ہوئی۔لیکن یہ جان لو کہ رب الفلق صرف خدا ہے۔اس کے سوا اور کوئی ذات نہیں۔اگر تم یہ جان لو کہ خدا ہی ہے، جو پیدا کرنے والا ہے تو جھوٹے تکبر اور جھوٹے تفاخر تم میں پیدا ہی نہیں ہو سکتے۔انکسار تو پیدا ہوسکتا ہے، اس احساس کے بعد کہ ہماری کوششیں نہیں تھیں، اللہ کے فضل تھے لیکن وہ کھوکھلی اور ہلکی باتیں، جوان رازوں کو نہ سمجھنے والے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہیں، ہر ماحصل کے بعد ، ان کھو کھلی باتوں سے مومن محفوظ رکھا جاتا ہے۔مجھے اس کا خیال تین دن پہلے اس طرح آیا کہ جب میں سفر یورپ سے واپسی پر یہاں پہنچا تو لوگوں نے طبعا خوشی کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ نے ایک خدمت کی توفیق عطا فرمائی تھی۔اس موقع پر بڑی محبت کا اظہار تھا۔دلوں سے بے اختیار خلوص کے سوتے اور جذبات کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔کچھ نعرے بن کر، کچھ دعائیں بن کر ، کچھ ویسے ہی چہروں سے ظاہر ہورہے تھے۔پاکستان میں داخل ہونے سے لے کر ربوہ پہنچنے تک یہی منظر دیکھا۔لیکن بعض نعرے ایسے سنے، جن سے مجھے بہت تکلیف پہنچی۔مثلاً یہ کہا گیا، فاتح سپین۔ابھی تو ہم خدمت کے میدان میں پوری طرح داخل ہی نہیں ہوئے۔اتنی جلدی اتنے بڑے بڑے دعوے کر بیٹھنا اور ان دعوؤں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا نہ کرنا، یہ ایک بہت خطرناک فعل ہے۔ہر تخلیق نو کے ساتھ جو شر لگے ہوئے ہیں، ان میں ایک یہ شر بھی ہے کہ انسان چھوٹی حالت میں بہت بڑے بڑے دعوے کرنے لگ جائے۔چھوٹی سی بات پر اچھلنے لگ جائے اور اتنا شور مچائے کہ وہ سمجھے کہ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔اس کے شر بڑے تفصیلی ہیں۔جن کی طرف ذہن منتقل ہوا تو آج میں نے خطبہ میں ان آیات کو اپنے خطبہ کا موضوع بنایا۔100